خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 191
191 جماعت نے اس طرف توجہ نہیں دی۔گزشتہ سال میں صرف تین طالبات ہوسٹل میں آئیں۔دو بعد میں آئیں شروع میں کچھ عرصہ صرف ایک لڑکی کو اکیلا رہنا پڑا۔جو چوہدری عبدالحمید صاحب کی لڑکی ہیں۔ہم ان کا شکر یہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ انہوں نے قربانی کر کے اپنی لڑکی کو اس وقت ہوسٹل میں داخل کیا جبکہ ابھی اور کوئی لڑکی نہیں آئی تھی اور ان کو انتہائی تکلیف اٹھانی پڑی۔تین طالبات میں سے دو کالج کی طالبات تھیں۔اور ایک سکول کی۔ہوٹل میں طالبات کا ہر طرح خیال رکھا جاتا ہے اور ہر طرح ان کی تربیت کی کوشش کی جاتی ہے۔پانچوں وقت نمازیں باجماعت ادا کی جاتی ہیں۔جن طالبات نے قرآن مجید باترجمہ نہیں پڑھا ہوا ان کو تر جمہ سپریٹینڈینٹ صاحبہ پڑھا رہی ہیں۔ماہ رمضان کے درس میں بھی طالبات جاتی رہیں۔اس سال کا سب سے المناک حادثہ حضرت اماں جان کا سانحہ ارتحال ہے۔ان کی تعزیت میں جامعہ نصرت کا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیا۔جس میں کالج کے سٹاف اور طالبات کی طرف سے خاندان حضرت مسیح موعو علیہ السلام کے ساتھ خلوص اور محبت کے جذبات کے ساتھ اظہار ہمدردی و عقیدت کیا گیا۔نیز 1952-05-09 کو حضرت اماں جان کی تعزیت میں ایک جلسہ جامعہ نصرت میں منعقد ہوا۔جس میں باہر سے بھی بہت سی خواتین نے شمولیت کی۔اس جلسہ میں کالج کی طالبات نے حضرت اماں جان کی سیرت مبارکہ اور ان کے خصائل محمودہ پر تقریریں کیں اور مضامین پڑھے۔اب رپورٹ ختم کرنے کے بعد میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ اپنی بچیوں کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں احمدیت اور اسلام کی خادمہ بنائے۔اور تعلیم کے بعد ان کا نصب العین اسلام کی خدمت اور اسلام کا جھنڈا دنیا میں بلند کرنا ہو۔ڈائریکٹریس جامعہ نصرت از مصباح نومبر، دسمبر 1952 ء نمبر 58