خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 2
626 حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے احسانات طبقہ نسواں پر ہندوستان میں مستورات کی پستی ایک مسلمہ چیز ہے۔بڑے بڑے اچھے اور با اخلاق لوگ بھی مستورات کے حقوق کو پامال کرتے ہوئے یہ خیال کرتے تھے کہ وہ کوئی بڑی نیکی کا کام کر رہے ہیں۔ان کی دینی یا دنیوی بہبود کی طرف توجہ کرنے کا کیا ذکر۔حالانکہ محض بچوں کی تربیت کا ہی سارا بار نہیں بلکہ قوموں کی تربیت میں بھی عورت کا ہاتھ ایک بڑا نمایاں کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔بایں ہمہ عورتوں کا وجود مردوں کی طرف سے نا قابل التفات رہا مگر خوش قسمتی سے طبقہ نسواں کے لئے حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا وجود ایک ابر رحمت ثابت ہوا۔حضور نے عورتوں کے حصہ کی تمام شقوں کو کامل طور پر قائم فرمایا۔مثلاً شریعت کے قیام کے لئے مردوں کے ساتھ عورتوں کو برابر کا حصہ دار قرار دیا ہے۔سلسلہ عالیہ احمد یہ میں بھی ایک زمانہ تک مستورات کی طرف پوری توجہ نہیں ہوئی۔اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے طرز عمل سے اپنے گھر میں وہ تمام حقوق دے رکھے تھے۔جو شریعت حقہ کی رو سے مستورات کو مل سکتے تھے۔مگر عام لوگوں کی توجہ اس طرف نہ تھی۔لیکن حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مستورات سلسلہ کو اس قدر بلند کیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے آپ کی ذات کے طفیل سر بلند ہو گئیں۔چنانچہ سب سے پہلا اعلان لجنہ اماءاللہ کا قیام ہے۔1922ء میں آپ نے لجنہ اماءاللہ یعنی احمدی مستورات کی ایک انجمن قائم کی۔اس انجمن کے ذریعے آپ نے مستورات کی تربیت فرما کر ان میں احساس پیدا کیا کہ وہ بھی بنی نوع انسان کا ایک جزو لا ینفک ہیں اور قوموں کی ترقی و تنزل میں ان کا بھی ہاتھ ہے۔ان میں آپ نے علمی ذوق پیدا کیا۔اُن کو اجتماع کی برکات بتلائیں۔ان میں اپنی قوتوں سے کام لینے کے ڈھنگ سکھلائے۔اور ان کو لجنہ کے ذریعے فن تقریر سے آگاہ کیا۔لجنہ اماءاللہ کا صیغہ دست کاری بیوہ اور بے کس عورتیں یہ خیال کرتی تھیں کہ ہم تو صرف خیرات پر ہی پرورش پاسکتی ہیں مگر آپ نے لجنہ کے ماتحت ایک صیغہ دست کاری قائم فرما کر ایسی عورتوں کے لئے ایک سبیل معاش پیدا کر کے ان میں خود داری کا مادہ پیدا کر دیا۔چنانچہ وہ عورتیں جو قومی خیرات پر پلنا ہی اپنا ذ ریعہ معاش خیال کرتی تھیں۔اور اس طرح اُن کے اور ان کے بچوں میں ایک پستی پیدا ہوئی تھی۔اب وہ صیغہ دستکاری کے ذریعہ کئی قسم کے