خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 3
636 کام کر کے اپنی معاش پیدا کرتی ہوئی ایک خوشی محسوس کرتی ہیں۔اور ان کے اخلاق بجائے پستی کی طرف جانے کے بلندی کی طرف جاتے ہیں۔اور آج قادیان میں بہت سی عورتیں ایسی ہیں جو اپنے ہاتھ سے کام کر کے اپنی زندگی بسر کر رہی ہیں۔قومی کاموں میں حصہ 1933ء میں حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مستورات کو برلن میں ایک مسجد قائم کرنے کے لئے تحریک کی۔اور اس مسجد میں خالص مستورات سے چندہ مانگا۔مستورات نے حضور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے 72 ہزار روپیہ جمع کر دیا۔یہ رقم خالص مستورات کی جیب سے نکلی۔جو بعد میں لنڈن مسجد کی تعمیر پر خرچ کی گئی۔اور اس طرح حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے احمدی مستورات کے سر کو قیامت تک بلند کر دیا اگر حضور پسند فرماتے تو مردوں ہی سے یہ رقم لے لیتے مگر آپ چاہتے تھے کہ قوم کے اس حصہ کو اٹھا ئیں جسے عام دنیا پس ماندہ خیال کر رہی ہے اور عیسائی اور مغربی دنیا یہ بجھتی ہے کہ اسلام میں عورت کی کوئی حیثیت یا جائداد نہیں۔وہ محض مردوں کی غلام ہیں۔چنانچہ آپ نے اسے ایسا اٹھایا کہ قیامت تک لوگ مستورات کی اس قربانی کو دیکھ کر سراہتے رہیں گے۔الغرض حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی ذات کے طفیل عورتوں کو یہ سعادت حاصل ہوئی۔مستورات کو تعلیم حضور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے احمدیہ جماعت کی ترقی کے لئے اس امر کو ضروری سمجھا کہ مستورات میں علم کی اشاعت ہو۔کیونکہ ابتدائی زمانہ میں قادیان میں سوائے چند مستورات کے کوئی تعلیم یافتہ نہ تھی۔استانیوں کی ایسی قلت تھی کہ دو تین عورتیں بمشکل پڑھانے والی تھی اور وہ بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہ تھیں۔مگر حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی توجہ سے وہ چھوٹا سا پرائمری مدرسہ اس قدر بڑھا کہ وہ ایک شاندار ہائی سکول بن گیا۔اور تعلیم اس قدر عام ہوئی کہ اس مدرسہ سے نکل کر کئی طالبات بی۔اے اور بی۔ٹی ہوگئیں اور کئی ڈاکٹر ہیں۔شاخ دینیات چونکہ مستورات کی تعلیم کی غرض ملا زمت نہیں اس لئے آپ نے تعلیم کے لئے نصرت گرلز سکول میں ایک شاخ دینیات قائم فرمائی تا کہ وہ علم دین سے بہرہ ور ہو کر نہ صرف دیندار ما ئیں اور بیٹیاں بنیں بلکہ