خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 181
181 کیا گیا۔امتہ الحی لائبریری کا احیاء یکم نومبر 1950ء کوزیر انتظام لجنہ اماءاللہ مرکز یه دفتر لجنہ اماءاللہ میں امتہ التی لائبریری کا احیاء تلاوت قرآن مجید کے بعد جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ (حضرت سیدہ ام متین صاحبہ ) نے تقریر کی۔جس کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا : کہ یہ لائبریری جس کا آج احیاء کیا جارہا ہے۔سیدہ امتہ الحی صاحبہ کی یادگار کے طور پر قائم کی گئی تھی۔اور اسی لئے اس کا نام امتہ التی لائبریری رکھا گیا۔قادیان میں میری انتہائی خواہش تھی کہ میں اس لائبریری کو ترقی دوں۔لیکن لائبریری کے لئے کوئی الگ فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے میری یہ خواہش عملی جامہ نہ پہن سکی۔لائبریری بہت چھوٹے پیمانہ پر تھی۔اور اس کو ترقی دینے کی سکیمیں بنائی جارہی تھیں کہ وہ سیلاب عظیم آیا جس نے ہمیں اپنے مرکز سے اتنی دور پھینکا۔خدا تعالیٰ کی مشیت یہی تھی۔جماعت منتشر ہوئی لیکن اولوالعزم محمود کے ذریعہ بکھری ہوئی جماعت کے دانے پھر ایک لڑی میں پرو دیئے گئے۔اللہ تعالیٰ نے ایک مرکز ثانی ہمیں عطا فر مایا اور توفیق دی کہ ہم اپنے تمام کام اس طرح کر سکیں۔جس طرح قادیان میں کیا کرتے تھے۔قادیان میں تو شائد ہی کوئی گھر ہوگا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔بزرگان سلسلہ اور دیگر مذہبی و علمی کتب کا ذخیرہ موجود نہ ہو۔لیکن اس قیامت صغریٰ کی بدولت جو 1947ء میں آئی لوگوں نے جہاں اپنا سب کچھ اپنے گھروں میں چھوڑ اوہاں وہ اپنی کتب بھی وہیں چھوڑ آئے۔اس لئے بہت ہی ضروری تھا کہ ربوہ میں ایک زنانہ لائبریری قائم کی جائے۔جس سے عورتوں میں علمی ذوق پیدا ہو۔اور وہ کتب پڑھ کر اپنے علم کو بڑھائیں۔پس اس غرض کے لئے لجنہ اماءاللہ کی شورٹی جو جلسہ سالانہ دسمبر 1949ء میں منعقد ہوئی۔میں نے یہ تجویز پیش کی کہ امتہ الحی لائبریری کو دوبارہ قائم کیا جائے۔اور اس کے لئے تین ہزار روپے کی تحریک کی۔شوری کے موقعہ پر 58 بیرونی لجنات کی نمائندہ موجود تھیں۔جنہوں نے نہایت گرم جوشی سے اس تحریک کو لبیک کہا۔اور اسی وقت - 2171 روپے کے وعدہ جات ہوئے۔جس میں سے -/550 روپے کا وعدہ لجنہ اماءاللہ ربوہ کا تھا۔اس وقت تک کل - 1157 روپے وصول ہو چکے ہیں۔