خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 178 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 178

178 تک اس معاملہ میں بہت ستی برتی جاتی ہے۔بہت سی جگہوں پر ابھی تک مقامی لجنہ قائم نہیں ہوئی اور کئی جگہیں ایسی ہیں جہاں لجنہ تو قائم ہے مگر مرکزی لجنہ کے ساتھ ابھی تک ان کا تعلق مضبوط نہیں ہوا۔میں امید کرتی ہوں کہ بہنیں آئندہ ہر جگہ لجنہ قائم کر کے مرکز کے ساتھ اس کے تعلق کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش کریں گی۔تا وہ عملی اصلاحیں جو تنظیم کے ذریعے کی جاسکتی ہیں جلد سے جلد کی جاسکیں۔یہ ایک خوشی کا مقام ہے کہ بعض لجنات بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔دوسروں کو بھی ان سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔ناشکری اور کفران نعمت سے بچیں:۔(ھ) عورتوں میں ایک خاص عملی اصلاح جس کا ان کی عام اخلاقی حالت پر بھاری اثر پڑتا ہے۔ناشکری کی عادت سے تعلق رکھتی ہے۔یہ بات افسوس کے ساتھ تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ عموماً مردوں کی نسبت عورتوں میں ناشکری کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے جنت و دوزخ کا نظارہ دکھایا گیا اس میں میں نے دیکھا کہ دوزخ میں عورتیں زیادہ تھیں صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ہے اس کی وجہ کیا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں ناشکری کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔ان کا خاوند یا کوئی عزیز ان کے ساتھ ہزار احسان کا سلوک کرے مگر کبھی کسی وقت ذرا سی بات خلاف منشاء ہو جائے تو وہ سارے احسانوں کو بھلا کر فورا ہی نظر بدل لیتی ہیں اور یہاں تک کہ دیتی ہیں کہ میرے ساتھ تو آپ نے کبھی کوئی نیکی کی ہی نہیں ہے۔یہ وہ کفر ہے جو ان کے دوزخ میں زیادہ جانے کا موجب ہے۔بخاری کتاب ایمان:- پس میں اپنی بہنوں سے عرض کرتی ہوں کہ وہ ناشکری اور کفرانِ نعمت کی عادت کو چھوڑ کر شکر گزاری اور قدرشناسی کی عادت پیدا کریں۔اور آنحضرت ﷺ کے اس احسان کی قدر کریں جو آپ نے یہ بات قبل از وقت بتا کر ہم پر فرمایا۔جس ہاتھ سے انسان سو میٹھی قاشیں کھاتا ہے۔اس کے ہاتھ سے اگر کبھی اتفاق سے کوئی ایک تلخ قاش بھی کھانی پڑے۔تو ایک وفادار انسان مُنہ بناتا ہوا اچھا نہیں لگتا۔شکر گذاری اور قدردانی بہت اعلیٰ صفات ہیں۔غیبت مت کرو:۔(ر) ایک اور قابل اصلاح بات غیبت کی عادت ہے اور یہ عادت بھی ایسی ہے جس میں بدقسمتی سے