خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 177
177 پڑھی ہوئی نہیں ہیں ہم کس طرح ان کتب کا مطالعہ کر سکتی ہیں۔لیکن اول تو ہمت والے انسان کے لئے بڑی عمر میں بھی پڑھنا لکھنا سیکھ لینا کوئی مشکل امر نہیں۔دوسرے علم کے واسطے خود پڑھنا جاننا ضروری بھی نہیں انسان دوسروں سے سن کر بھی علم سیکھ لیتا ہے ہمارے آقا وسردار بھی بظاہر اتنی تھے مگر آج تک دنیا نے علم میں آپ ﷺ کا نظیر پیدا نہیں کیا اور نہ آئندہ پیدا ہوگا ، اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ نماز کی پابندی :۔(ب) دینی واقفیت کے بعد جو گویا بطور بنیاد کے ہیں۔عملی اصلاح کے میدان میں سب سے ضروری چیز نماز کی پابندی ہے۔مگر نماز رسمی انداز میں نہیں ہوئی چاہیے۔بلکہ دلی شوق اور دلی توجہ کے ساتھ ایسے رنگ میں ہونی چاہیے۔کہ گویا انسان خدا کو دیکھ رہا ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اعلیٰ درجہ کی نیکی یہ ہے کہ انسان ایسے رنگ میں عبادت بجالائے کہ گویا صرف خدا ہی اسے نہیں دیکھ رہا۔بلکہ وہ خود بھی خدا کو دیکھ رہا ہے۔لیکن اگر یہ مقام کسی کو حاصل نہ ہو۔تو کم از کم اتنا تو ہو کہ انسان یہ یقین رکھے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔اس احساس کے بغیر کوئی عبادت حقیقی عبادت نہیں کہلا سکتی ہے۔بلکہ محض ایک بے جان جسم ہے۔جس کے اندر کوئی روح نہیں۔زکوۃ کی ادائیگی:۔(ج) عورتوں کے واسطے زکوۃ کا معاملہ بھی بہت توجہ چاہتا ہے۔کئی عورتوں پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔مگر وہ اس کی طرف سے غفلت برتی ہیں حالانکہ زکوۃ انسان کے مال کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔بلکہ زکوۃ کے معنی ہی بڑھانے اور پاک کرنے کے ہیں عورتوں کے پاس نقد مال تو کم ہی ہوتا ہے۔مگر زیور اکثر ہوتا ہے۔اور ایسے زیور پر زکوۃ واجب ہوتی ہے۔جو کثرت کے ساتھ استعمال میں نہ آتا ہو۔یا کبھی کبھی غرباء کو استعمال کرنے کے لئے نہ دیا جاتا ہو۔بشرطیکہ وہ نصاب کی حد کو پہنچا ہوا ہو۔دینی اور قومی تنظیم :۔عورتوں کے واسطے دینی اور قومی تنظیم کا معاملہ بھی نہایت اہم ہے۔کوئی جماعت تنظیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔بلکہ افسوس ہے کہ مردوں کی تنظیم کے مقابل پر ابھی تک ہماری تنظیم میں کئی خامیاں ہیں احمدی عورتوں کی تنظیم کا بہت عمدہ اور پختہ ذریعہ لجنہ اماءاللہ کا قیام ہے۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی