خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 176
176 بڑوں کی اصلاح کے متعلق کچھ: اب میں مختصر طور پر بڑوں کی عملی اصلاح کے بارے میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔اور اس گروہ میں میں خود بھی شامل ہوں۔اس لئے سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے ہم اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ محض اسلام اور احمدیت کو زبانی طور پر سچا مان لینا کوئی چیز نہیں۔جب تک کہ ہم اس کی تعلیم پر عمل پیرا نہ ہوں۔بلکہ حق یہ ہے کہ مان لینے سے ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے اور ہم اپنے اعمال کے متعلق خدا کے سامنے اور بھی زیادہ جواب دہ ہو جاتے ہیں۔پس ہمارا اسلام اور احمدیت پر ایمان لانے کا دعوی تبھی سچا سمجھا جا سکتا ہے۔کہ ہم اس کی تعلیم پر عمل کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزاریں مگر ہم میں سے کتنی ہیں جو سچ مچ اسلام اور احمدیت کی تعلیم کا نمونہ ہیں؟ بے شک خدا نے ہمیں احمدیت کی توفیق عطا کر کے ہماری زندگیوں میں بھاری انقلاب پیدا کر دیا ہے مگر ابھی ہمارے اندر بہت سی خامیاں بھی ہیں۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان خامیوں کو دور کر کے دنیا پر ثابت کر دیں کہ احمدیت ہی وہ چیز ہے جو انسان کو کامل انسان بنانے کی قابلیت رکھتی ہے۔میں اپنی بہنوں کے سامنے چند باتیں پیش کرتی ہوں جن میں ہمیں اپنی عملی زندگی میں زیادہ اصلاح کی ضرورت ہے۔دینی تعلیم سے واقفیت کی ضرورت :۔(الف) سب سے اہم اور ضروری چیز یہ ہے کہ ہم اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے واقف ہوں۔صرف اسلام اور احمدیت کا نام کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔مذہب کا وجود منتر جنتر کے طور پر نہیں ہوتا کہ صرف نام لے دینے سے ساری مرادیں پوری ہو جائیں۔بلکہ مذہب کی تعلیم عمل کے لئے ہوتی ہے اور عمل کے واسطے علم ضروری ہے پس پہلی بات یہ ہے کہ بہنیں اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے واقفیت پیدا کریں حق یہ ہے کہ اسلام جیسے مذہب اور قرآن جیسی کتاب اور احمدیت جیسا طریق رکھتے ہوئے ان کی تعلیم۔نا واقف رہنا انتہائی محرومی ہی نہیں بلکہ انتہا درجہ کی بے وفائی بھی ہے لہذا سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہم اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے واقفیت پیدا کریں۔اور اس کے لئے قرآن شریف کو تر جمہ کے ساتھ پڑھنا حدیث کا مطالعہ کرنا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ کی کتب اور دیگر کتب سلسلہ کا مطالعہ پھر اس کے ساتھ اخبارات کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔بعض بہنیں یہ خیال کریں گی کہ ہم