خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 165 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 165

165 رب سے تعلق قائم کیا۔دنیا کے ہر کونہ سے اس کے لئے سلامتی کی دعائیں بلند ہوئیں۔ایک کامیاب قائد ، ایک محبوب رہنما، ایک عظیم انسان، جماعت کے لوگوں کی دھڑکنیں ایک وفا شعار بیٹا ، ایک شفیق بھائی، ایک بے نظیر خاوند ، ایک محبت کرنے والا لیکن خدا کی خاطر ساری اولا د کو قربان کر دینے کا جذبہ رکھنے والا باپ، دوستوں کا وفادار اور دشمنوں سے شفقت اور احسان کرنے والا، انسان کامیاب و کامران زندگی گزار کر اپنے مولا کے حضور اپنی زندگی کا نذرانہ لے کر حاضر ہو گیا۔ہاں وہ عظیم الشان کہ جب جماعت کی قیادت ہاتھ میں آئی تو دوست کم اور دشمن زیادہ تھے اور جب اس دنیا سے رخصت ہوا تو ہزاروں نہیں لاکھوں آنکھیں اشکبار اور لاکھوں دل غم ناک تھے۔اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا قانون ہوتا کہ کسی کی جان کے عوض کوئی دوسری جان قبول کی جاسکتی تو یقینا اس محبوب ہستی کو بچانے کے لئے اس کی جماعت کا ہر فرد اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیتا۔آپ کی ساری زندگی ایک عظیم الشان جد و جہد کی زندگی تھی۔آپ کا ہر کام حیرت میں ڈالنے والا تھا لیکن میری نظر میں آپ کا سب سے عظیم الشان کارنامہ استحکام خلافت ہے۔جماعت کے ہر فرد مرد عورت اور بچہ کے دل میں یہ ایمان پیدا کر دیا کہ اسلام کی ترقی صرف وحدت قومی کے ساتھ وابستہ ہے اور وحدت قومی کی جان نظام خلافت ہے۔خلافت پر پختہ ایمان ، ہر قیمت پر اس انعام الہی کو قوم میں قائم رکھنا۔خلافت کی کامل فرمانبرداری ، اس کی عظمت کے مطابق قربانیاں دینا ہر احمدی میں یہ روح اور جذبہ پیدا کرنے کا سہرا آپ ہی کے سر رہا۔یہ بھی آپ ہی کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ اس دن ہر دل غمگین تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی لیکن ہر شخص آپ ہی کی دی ہوئی تعلیم پر عمل کرتا ہوا اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل اور یقین رکھتا تھا کہ وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ہر شخص کے لب مصروف دعا تھے اور نگاہیں آسمان پر لگی ہوئی تھیں کہ اے مولی ! اپنی اس جماعت کو حسب وعدہ پھر ایک عظیم الشان قائد عطا کیجیو۔چنانچہ جونہی اللہ تعالیٰ کا منشاء ظاہر ہوا ہر گردن اطاعت کے لئے جھک گئی اور شیطان اس سجدہ آدم پر حسرت سے کف افسوس ملتا رہ گیا۔اس جانے والے کی روح بھی یقیناً شاداں و فرحاں ہوگی اس نظارہ پر کہ ساری زندگی کی کاوشوں کا ثمرہ جنت میں تو انشاء اللہ ملے گا ہی اس دنیا میں بھی مل گیا۔اے جانے والے تیرا نام ہی محمود نہ تھا تیرا کام بھی محمود تھا۔تو نے عظمت کو ورثہ میں پایا اور تیری عظمت تیرے بیٹے کو بھی ورثہ میں ملی خدا کرے کہ جس طرح تیری زندگی کامیاب و کامران گذری ، جس طرح تیرے ہاتھ سے دنیا کے کونے کونے میں اسلام کا پیغام پہنچا۔تیرے نور نظر کے ہاتھوں بھی اسلام کی وہ