خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 158 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 158

158 قرآن ہم نے نازل کیا ہے اس لئے اس کی دائمی حفاظت کے بھی ہم ذمہ دار ہیں۔آہستہ آہستہ جب مسلمان نام کے مسلمان رہ گئے قرآن کی تعلیم پر ان کا عمل نہ رہا۔فلسفہ اور دجالیت پورے زور شور سے اسلام پر حملہ آور ہوئی۔خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن پر اعتراضات ہونے لگے۔روحانی حالت تباہ و برباد ہوکر ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ( الروم: 42) کا نقشہ دنیا میں نظر آنے لگ گیا بظاہر دنیا کی روحانی حالت کی اصلاح کے سامان ختم ہو گئے اور غلطی سے مسلمانوں میں یہ عقیدہ بھی پھیل گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔اب امت محمدیہ کی اصلاح کیلئے کوئی نبی نہیں آسکتا۔اللہ تعالیٰ کی ربوبیت تقاضا کر رہی تھی کہ وہ اپنے بندہ کی اصلاح کا سامان عطا فرمائے۔اسلام کی حفاظت کا وعدہ بھی تھا اور آئندہ نئی شریعت نہ آنے کا سوال بھی کیونکہ شریعت کا اتمام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو چکا تھا۔اس صورت میں صرف اور صرف ایک ہی راستہ تھا کہ اللہ تعالیٰ جس کو بھی امت محمدیہ کی اصلاح کیلئے کھڑا کرے وہ آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ہو اور یہی ہونا تھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے تیرہ سو سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین کے نام سے سرفراز فرما کر بتا دیا تھا کہ آپ کی غلامی میں نبی آئیں گے۔اور یہی آپ کی زندگی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔اگر آپ کی امت سے باہر کا کوئی نبی آتا تو مہر خاتمیت ٹوٹتی ہے جو ناممکن ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا نبوت کا دعویٰ آنحضرت مے کی غلامی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سوا بھی کسی نے کیا ہے جب امت محمدیہ کی اصلاح کا وعدہ بھی موجود ہو۔ضرورت بھی ثابت ہو اور مدعی بھی ایک ہی ہو اور ان شرائط کے ساتھ جو خود خدا کی فرمودہ ہیں تو خدا کا خوف رکھنے والے انسان کو بہت غور وفکر سے کام لینا چاہئے کہ میں خدا کی نعمت کا ناشکر گزار نہ بنوں۔اگر تجدید دین کا کوئی مدعی نہ ہوتا تو دوسرے مذاہب والے اسلام پر اعتراض کر سکتے تھے کہ یہ زندہ مذہب نہیں۔الہام الہی اور قرب الہی کا دروازہ اسلام میں بند ہو گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ابدی زندگی کس شاندار رنگ میں عطا فرمائی اور کیسی شاندار حفاظت اسلام کی کی کہ جہاں قرآن کا ایک ایک لفظ اپنی ظاہری شکل میں محفوظ ہے وہاں اس کی تعلیم کو پھیلانے کیلئے تجدید اسلام کیلئے ایسے وجودوں کو کھڑا کرتا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ سے تازہ بتازہ نشانات اور تائید حاصل کر کے اسلام کے باغ کو ہرا بھرا ر کھتے رہے ہیں اور الہام الہی کے پانی سے اسے سینچتے رہے ہیں ان وجودوں کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی قدرتوں کی تجلیات ظاہر ہوتی