خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 151
151 اس پیغام حق کو پہنچانے سے میں رک نہیں سکتا۔جو میرے سپرد کیا گیا ہے کہ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ جب آنحضرت ﷺ نے خدا تعالیٰ کے حکم سے مکہ کو چھوڑ دیا اور مدینہ کی طرف ہجرت کی غرض سے روانہ ہوئے۔غارثور میں پناہ لی دشمن نے باہر کھوجیوں کو آپ کی تلاش میں لگا دیا جو قدموں کے نشانوں کی کھوج لگاتے لگاتے آخر غار کے دہانہ پر پہنچ گئے اور ماہرین نے یہاں تک کہہ دیا کہ یا آپ غار میں ہیں یا آسمان پر اڑ گئے ہیں اور کہیں نہیں جاسکتے لیکن کتنا زبر دست ایمان تھا آنحضرت ﷺ کو اپنے قادر وتی و قیوم خدا پر۔حضرت ابو بکر گھبر ائے آپ ﷺ نے ان کو تسلی دی گھبرانے کی کیا بات ہے۔اِنَّ اللهَ مَعَنَا (التوبہ:40) ہم اکیلے تو نہیں ہیں۔خدا کی زندگی اور قدرت کا کتنا بڑا ثبوت ہے کہ ان دشمنوں کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑا کہ کسی کو نیچے جھک کر دیکھنے کا بھی خیال نہ آیا اور واپس چلے گئے۔اللہ تعالیٰ نے نبوت ورسالت کا سلسلہ ہی اس لئے جاری فرمایا ہے کہ انبیاء خدا نما بن کر دنیا کو زندہ خدا کا چہرہ دکھاتے ہیں۔ہزاروں ہزار درود اور سلام محمد مصطفی ﷺ پر جنہوں نے ایسے زندہ خدا سے اپنے صحابہ کو ملا دیا اور ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ پر ایسا زندہ ایمان پیدا کیا کہ وہ اس کی راہ میں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح ہونے کے لئے تیار ہو گئے۔انہوں نے موسیٰ کی قوم کی طرح یہ نہیں کہا کہ جا تو اور تیرا رب لڑتے پھریں۔ہم تو یہاں بیٹھے ہیں انہوں نے یہ کہا کہ یا رسول اللہ ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے۔اور دشمن جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔اور یارسول اللہ اگر آپ حکم دیں تو ہم سمندر میں چھلانگ لگانے کو تیار ہیں۔اللہ تعالیٰ پر اتنا زندہ ایمان صحابہ کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھا کہ بڑے سے بڑے صدمہ کے وقت بھی ان کے قدم لغزش سے محفوظ رہے اور زندہ خدا پر ایمان کا نتیجہ ہی تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے موقع پر جن صحابہ کا غم کے مارے بُرا حال تھا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ اُٹھے مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مَحَمَّدًا قَدَمَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَى لَّمْ يَمُوتُ ( سنن ابن ماجه کتاب ماجه في الجنائز) کہ سن لو جو تم میں سے محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا اس کو تو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ محمد ﷺ وفات