خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 149 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 149

149 فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَؤُدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ﴿ سوره البقره : 256 یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے حسن واحسان اور بے عیب ہونے کے باعث اس بات کے لائق ہے کہ صرف اسی کی پرستش کی جائے وہی انسان کا حقیقی محبوب و مطلوب ہو اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ازلی و ابدی خداتی و قیوم ہے وہ زندہ ہے اور زندگی بخشتا ہے دنیا ، زمین آسمان اور اس کی ہر چیز کی زندگی کا انحصار اس کی ذات پر ہے۔اس کے لئے کوئی فنا نہیں فنا تو الگ رہی نیند یا اونگھ یا تھکان کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔اس نے عیسائیوں کے خدا کی طرح دنیا کے بنانے کے بعد تھک کر آرام نہیں کیا۔وہ اپنی مخلوق کی حفاظت سے کبھی بھی غافل نہیں ہوتا زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے اس کا ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کی جرات کر سکے۔کتنا دل موہ لینے والا تصور ہے۔اسلام کے زندہ خدا کا جس پر دل سے ایمان لے آنا ایک رسمی ایمان نہیں رہتا بلکہ ایک ٹھوس حقیقت بن جاتا ہے۔یہ وہ ایمان ہے جس کا مزہ چکھ کر انسان اللہ تعالیٰ کے لئے آگ میں کود پڑتا ہے سمندر میں چھلانگ لگا دیتا ہے دُنیا کی بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکر لے لیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا خدا اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں نے اپنی طاقت کے نشہ میں خدا کے پیارے بندوں سے ہمیشہ ہی مخالفت کی۔ان کے راستوں میں روڑے اٹکائے ہر قسم کا ہتھیار ان کے خلاف استعمال کیا۔مگر وہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔لَا غُلِينَ أَنَا وَرُسُلِي کہ میں اور میرے فرستادہ دنیا کی ساری مخالفت کے باوجود غالب آکر رہیں گے۔خدا پر زندہ ایمان کے نتیجہ میں خدا کے وعدہ پر تو کل رکھتے ہوئے خدا کا پیارا بندہ جسے خدا تعالیٰ نے کسی خاص مقام پر کھڑا کیا ہمیشہ ہی ساری دنیا پر غالب آیا۔یہی وہ ایمان تھا جس نے حضرت ابراہیم کو آگ سے زندہ نکال لیا۔یہی وہ ایمان تھا جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے اکلوتے بیٹے کو وادی غیر ذی زرع میں جہاں نہ سر پر سایہ تھا نہ کھانے کا سامان نہ پینے کا پانی جنگل بیابان میں چھوڑنے پر آمادہ کر دیا۔اور یہی وہ زندہ خدا پر توکل تھا جس کی وجہ سے حضرت ہاجرہ کو اپنے ننھے منے بچہ کو تڑپتے دیکھ کر ایک منٹ کے لئے خیال نہ آیا کہ بچہ مر جائے گا بلکہ بے اختیار ان کے منہ سے نکلا۔