خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 148
148 سزا دیتا ہے لیکن یہ یادر ہے وہ مالک ہے جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے معاف کر دیتا ہے وہ آریوں کے خدا کی طرح اس بات پر مجبور نہیں کہ انسان جب تک ایک جون سے دوسری جون میں جا کر اپنے گناہوں کی سزا نہ بھگت لے نجات نہیں حاصل کر سکتا ہے۔وہ عیسائیوں کے خدا کی طرح ایک انسان کو صلیب پر چڑھا کر باقیوں کی نجات کا موجب بنانے پر مجبور نہیں وہ ازلی ابدی قادر خدا تمام دنیا کا خالق اور مالک ہے۔ہر چیز اس کی ملک ہے ہر چیز اس کی محتاج ہے وہ کسی کا محتاج نہیں وہ سزا دیتا ہے۔اسلئے کہ شریر اور دانستہ گناہ کرنے والے دلیر نہ ہوں۔مگر جو غلطی کر کے اس کے در پر جھکتا ہے اس کے لئے وہ ماں سے بڑھ کر شفیق اور باپ سے بڑھ کر مہربان ہے۔یہ ہے وہ خدا جس کا تصور اسلام نے پیش فرمایا ہے۔اور ایسے خدا پر زندہ ایمان لا کر ان کی صفات کا ظہور دیکھ کر بے اختیار انسانی روح ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتح : 5) کہتے ہوئے اس کے آگے سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔کہ تو ہی اس لائق ہے کہ تیری عبادت کی جائے تو ہی ہمارا محبوب و مطلوب اور مقصد ہے۔تجھ سے ہی تیرے فضل کے ہم طلب گار ہیں۔اس لئے تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا کہ تیرے فضل کے بغیر نجات نہیں۔جو حسین تصور قرآن مجید ذات باری کا پیش کرتا ہے کسی مذہب اور کسی کتاب نے ویسا کیا اس کا عشر عشیر بھی پیش نہیں کیا۔قرآن مجید فرماتا ہے:۔قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ۔اَللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ۔(الاخلاص) گویا ایک شمشیر براں سے تثلیث کے عقیدہ کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دی۔ایک تنگیٹی عقیدہ رکھنے والا تین خداؤں سے یکساں کیسے محبت کر سکتا ہے۔لیکن اللہ احد کہنے والا جب اس احد اور صمد خدا کو جو ہر چیز سے بے نیاز ہے اور ساری کائنات کا ذرہ ذرہ اس کا محتاج ہے۔اپنا مطلوب قرار دے دیتا ہے۔تو دل و جان سے اس سے محبت کرنے اور اس سے زندہ تعلق پیدا کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔احد کا لفظ اپنے اندر عجیب خصوصیت رکھتا ہے اور صرف یہی ایک لفظ ہے جس میں کسی رنگ میں دوئی کا اظہار نہیں ہوتا۔احد کے معنے ہیں وہ ذات جو ایسی ایک ذات ہے کہ جس کا تصور کریں تو دوسری کسی ذات کا خیال بھی دل میں نہ آسکے۔اور احد وہ صفت ہے کہ جو سب خلق سے منزہ ہو اور دراصل اللہ تعالیٰ کی اصل شان احدیت ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس شان کو صرف قرآن نے پیش کیا ہے۔اسی طرح مندرجہ ذیل آیات میں قرآن مجید کیا پیارا تصور ذات باری کا پیش فرماتا ہے:۔اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا