خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 147
147 مذہب کی غرض بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: مذہب سے غرض کیا ہے! بس یہی کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کا ملہ پر یقینی طور پر ایمان حاصل ہو کر نفسانی جذبات سے انسان نجات پا جاوے۔اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا ہو۔کیونکہ در حقیقت وہی بہشت ہے جو عالم آخرت میں طرح طرح کے پیرایوں میں ظاہر ہوگا اور حقیقی خدا سے بے خبر رہنا اور اس سے دور رہنا اور سچی محبت اس سے نہ رکھنا۔در حقیقت یہی جہنم ہے جو عالم آخرت میں انواع و اقسام کے رنگوں میں ظاہر ہوگا۔اور اصل مقصود اس راہ میں یہ ہے کہ اس خدا کی ہستی پر پورا یقین حاصل ہو اور پھر پوری محبت ہو اب دیکھنا چاہئیے کہ کونسا مذ ہب اور کونسی کتاب ہے جس کے ذریعہ سے یہ غرض حاصل ہوسکتی ہے انجیل تو صاف جواب دیتی ہے کہ مکالمہ اور مخاطبہ کا دروازہ بند ہے اور یقین کرنے کی راہیں مسدود ہیں اور جو کچھ ہوا وہ پہلے ہو چکا اور آگے کچھ نہیں۔۔۔۔ہم ایسے مذہب کو کیا کریں جو مردہ مذہب ہے۔ہم اس کتاب سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو مردہ کتاب ہے اور ہمیں ایسا خدا کیا فیض پہنچا سکتا ہے۔جو مردہ خدا ہے۔روحانی خزائن جلد : 20 چشم مسیحی ص 353,352 اسلام کا پیش کردہ زندہ خدا: اسلام نے جس خدا کا تصور پیش کیا وہ مردہ خدا نہیں کہ کسی زمانہ میں تو اپنے بندوں پر مہربان تھا ان سے ہمکلام ہوتا تھا۔اپنے مقربین کو اپنے کلام سے مشرف فرما تا تھا۔ان کی دعاؤں کو سنتا اور ان کی ربوبیت کرتا تھا لیکن اب ان سے نہیں بولتا۔اسلام اس خدا کو پیش کرتا ہے جو ساری کائنات کا رب ہے جو ابتدائے آفرینش سے انسان کی جسمانی اور روحانی ربوبیت کرتا چلا آتا ہے۔اب بھی کرتا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گا۔وہ عالم الغیب ہے وہ انسان کی ہر ضرورت کو جانتا ہے خواہ مادی ہو یا روحانی اور ان ضرورتوں کے مطابق سامان بہم پہنچاتا ہے۔اپنی رحمانیت کے تقاضہ کے ماتحت جہاں بن مانگے انسانوں کے لئے غذا کا انتظام کر رکھا ہے اسی طرح روحانی غذا کا انتظام بھی کرتا رہتا ہے۔وہ رحیم ہے وہ بڑا ہی مہربان بہت ہی شفیق ہے۔ایک ماں سے بڑھ کر مہربان اور پیار کرنے والا۔ایک باپ سے بڑھ کر محبت کرنے والا۔وہ ستار ہے۔انسان گناہ کرتا ہے وہ اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے۔وہ غفور ہے بلکہ غفار ہے۔انساں گناہ کرتا ہے لیکن جب تو بہ کے لئے اس کے حضور گڑگڑاتا ہے سچے دل سے معافی مانگتا ہے تو وہ غفور الرحیم خدا اسے اپنی محبت اور عفو کی آغوش میں لے لیتا ہے وہ مالک یوم الدین ہے وہ بے شک اچھے اعمال کی جزا اور برے اعمال کی