خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 134 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 134

134 فرمایا کرتے تھے مسلمانوں کے لیے یہ عید کا دن ہے۔دوسرے دنوں سے ہمیں اچھا کھانا کھانا چاہئے تا خوشی کا اظہار ہو۔جب تحریک جدید جاری فرمائی تو آپ نے اپنے گھر میں بھی سختی فرمائی کہ ایک سے زائد کھانا نہ ہوا کرے۔کبھی آپ کے خیال سے ہی ہم نے ایک سے زائد کھانا پکا لینا تو آپ نے ناراض ہونا۔کہ میں کبھی ایک سے زائد کھانا نہیں کھاؤں گا۔سوائے دعوت وغیرہ کے۔لیکن جمعہ کا دن ہے آج بے شک ایک آدھ زائد چیز تیار کر لیا کرو۔یوں تو قرآن مجید کی تلاوت جیسا کہ پچھلے مضمون میں میں بیان کر چکی ہوں۔آپ کثرت سے فرماتے تھے۔اور عموماً زبانی بھی قرآنی دعائیں اور آیات بلند آواز سے پڑھتے رہتے تھے۔لیکن سب سے زیادہ اور بارہا جو آیات گھر میں ٹہلتے ہوئے سفر میں موٹر میں یا ریل میں ہزاروں مرتبہ آپ کو بار بار پڑھتے سنی ہیں وہ آیات یہ ہیں :۔إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَأَيْتِ لِأُولِى الأَلْبَابِ O الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّلِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِئُ لِلإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَامَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ O رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدَتْنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيْمَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ - (آل عمران آخری رکوع 191 تا 195) سفر کو جاتے ہوئے آپ کا قادیان تک یہ طریق رہا کہ جب کبھی باہر جانا ہوتا تو جانے والے دن بہشتی مقبرہ ضرور تشریف لے جاتے اور جانے سے تھوڑی دیر قبل بیت الدعا میں جا کر دو نفل پڑھ کر سب سے مل کر سب سے آخر میں حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مل کر روانہ ہوتے موٹر یا گاڑی میں بیٹھتے ہی دعائیں پڑھنی شروع کر دیتے۔اور اکثر بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔اللَّهُمَّ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ وَرَبِّ الْأَرْضِينَ السَّبْعِ جب قادیان واپسی ہوتی۔تب آپ گھر میں داخل ہو کر سب سے پہلے حضرت اماں جان سے ملتے پھر بیت الدعا میں نفل پڑھتے۔قادیان سے ہجرت کے بعد بھی بیت الدعا تو نہ تھی۔لیکن سفر پر جاتے ہوئے