خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 133 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 133

133 خطبہ دیں اور نماز بہت لمبی نہ پڑھا ئیں۔لیکن علیحدگی میں جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو آپ کی عبادت الہی میں اتنا انہماک ہوتا تھا کہ پاس بیٹھنے والا محسوس کرتا تھا کہ یہ شخص اس دنیا میں نہیں ہے میں نے آپ کو اس طرح روتے کہ پاس بیٹھنے والا آواز سنے بہت کم دیکھا ہے۔لیکن آنکھوں سے رواں آنسو ہمیشہ نماز پڑھتے میں دیکھے۔چہرہ کے جذبات سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ گویا اپنی جان اور اپنا دل ہتھیلی پر رکھے اللہ تعالیٰ کی نذر کر رہے ہیں اور اس وقت دنیا کا بڑے سے بڑا حادثہ اور بڑے سے بڑا واقعہ بھی آپ کی توجہ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف سے ہٹا نہیں سکے گا۔تہجد کی نماز بعض دفعہ اتنی لمبی ہو جاتی کہ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ اتنا لمبا وقت آپ کھڑے کس طرح رہتے ہیں۔میں نے سجدہ کی نسبت قیام میں آپ کو زیادہ دعائیں کرتے دیکھا ہے۔بعض دفعہ ایک ایک رکعت میں ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو گھنٹے کھڑے رہتے ہیں۔تہجد میں آپ کا عموماً یہ طریق تھا کہ ایسے وقت میں تہجد پڑھتے کہ تہجد کی نماز ختم ہونے اور صبح کی نماز میں خاصا وقت ہوتا۔تہجد پڑھ کر لیٹ جاتے اور تھوڑا سا سو بھی لیتے اور پھر اٹھ کر صبح کی نماز پڑھتے۔نماز با جماعت کا اتنا خیال تھا کہ جب بیمار ہوتے اور مسجد نہ جاسکتے تو گھر میں ہی اپنے ساتھ عموماً مجھے کھڑا کر لیا کرتے اور جماعت سے نماز پڑھا دیتے تاکہ نماز با جماعت کی ادائیگی ہو جائے۔سوائے گزشتہ چند سال کی بیماری کے بالکل صاحب فراش ہو گئے تھے۔اور لیٹے لیٹے یا کرسی پر نماز پڑھتے تھے۔ذکر الہی کرنے کی اتنی عادت تھی کہ رات کو سوتے ہوئے جب کروٹ بدلتے اور ہلکی سی آنکھ کھلتی تو ہمیشہ میں نے سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِیم - کہتے ہوئے سنا ہے۔جمعہ کے دن خاص اہتمام فرماتے تھے۔باقاعدگی سے نہانا، خوشبولگانا، اچھی اور نفیس خوشبو بہت پسند تھی ناک کی حس اتنی تیز تھی کہ معمولی سی بو برداشت نہیں کر سکتے تھے اور بہت تیز خوشبو سونگھتے ہی بتا دیتے تھے کہ کس قسم کی خوشبو ہے مجھے یاد ہے قادیان میں ایک انگریز حضور سے ملنے آیا۔وہ خوشبوؤں اور عطریات کا خاص ماہر تھا۔اسے اس سلسلہ میں اتنا بڑا دعویٰ تھا کہ اس نے اپنی ناک کئی ہزار پونڈ میں بیمہ کروائی ہوئی تھی۔اس نے آ کر بعض خوشبوئیں حضور کو سنگھا ئیں آپ نے جب ایک ایک کر کے اجزاء بتانے شروع کر دیئے تو اسے بڑی حیرت ہوئی کہ مذہبی راہنما کو خوشبوؤں کے متعلق اتنا وسیع علم کیسے ہو گیا۔کہنے لگا میں تو اس علم کا ماہر ہوں۔لیکن آپ کو مجھ سے بھی زیادہ علم ہے بعض باتیں آپ نے مجھے ایسی بتائیں ہیں جو مجھے بھی معلوم نہ تھیں۔جمعہ کے دن صرف غسل کرنے یا کپڑے بدلنے کا ہی اہتمام نہ فرماتے بلکہ کھانے وغیرہ کے متعلق بھی