خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 128
128 روک ہے کیسی فضول بات ہے۔کیا ایک سبب سے دو متضاد نتیجے نکل سکتے ہیں ہرگز نہیں اگر چودہ سوسال پہلے کی ترقی قرآن مجید پر عمل کرنے کے نتیجہ میں تھی تو آج بھی وہی نتیجہ نکل سکتا ہے جو اس وقت نکلا تھا بشر طیکہ عمل قرآن کے مطابق ہو۔آج دنیا جس طرف جا رہی سے اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہونے لگ جاتے ہیں۔اگر مسلمانوں کا یہی حال رہا اور انہوں نے اپنی اخلاقی اور معاشرتی اصلاح نہ کی تو ہمارے لئےلمحہ فکر یہ ہے کہ ہماری تہذیب کا کیا بنے گا۔پاکستان جو ہم نے جانوں کی قربانی دے کر حاصل کیا۔جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔اسی لئے تو حاصل کیا گیا کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ مل جل کر نہ رہ سکتے تھے ہمیں ایک ایسے وطن کی ضرورت تھی جہاں ہماری تہذیب ہو جہاں ہمارا اپنا کلچر ہو۔ہاں وہ تہذیب اور کلچر جو چودہ سوسال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔کیا ہم دیانتداری کے ساتھ غیر ممالک کے بسنے والوں کے سامنے اپنی تہذیب کو یہ کہہ کر پیش کر سکتے ہیں کہ یہ وہ اعلیٰ ترین تہذیب ہے جس کی بنیاد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ڈالی گئی تھی۔ایک طرف ہمارا یہ دعوئی کہ ہماری ہر الجھن کا حل قرآن میں ہے دوسری طرف ہمارا عمل اس کے خلاف۔یقینا یہ چیز ہمارے لئے باعث ذلت و عار ہے کہ دعویٰ کچھ اور عمل کچھ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دنیا جہان کی نعمتیں دیں۔اور ان کو خدا تعالیٰ کا فرمانبردار بنا کر دیں۔جو تہذیب انسان کو خدا سے دور کرے وہ ہماری تہذیب نہیں ہونی چاہئے۔جس کلچر سے ہماری اخلاقی قو تیں تباہ ہوں اور روحانیت مردہ ہو وہ کلچر ہمارا نہیں ہونا چاہئے۔موجودہ زمانہ میں عورتوں کی مذہب سے بیگانگی۔پردہ سے گھبرانا۔مردوں سے اختلاط۔اپنے فرائض سے گھبرا کر گھر کے باہر کی زندگی کو اختیار کرنا۔قرآن مجید کی تعلیم سے ناواقفیت اللہ تعالیٰ نے اولاد کی تربیت کا جو فریضہ ان کے سپرد کیا ہے اس کو ادانہ کرنا کیا یہ سب امور اسلام کی تعلیم کے مخالف نہیں۔آج بھی مسلمان ترقی کر سکتے ہیں تو قرآن پر عمل کرنے سے جس کا ایک حکم بھی ایسا نہیں جو نا قابل عمل ہو اور جس پر عمل کرنا ہمارے ایمان کا ضروری حصہ نہ ہو۔مسلمانوں کا زندہ ہونا۔ان کی ترقی منحصر ہے اس بات پر کہ ہم قرآن پر عمل کریں۔قرآن پڑھیں ، سمجھیں، پڑھائیں۔اور اپنی زندگیوں کو قرآن کی تعلیم کے مطابق ڈھالیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں۔صلى الله آپ ﷺ کی قوت قدسیہ آج بھی زندہ ہے:۔