خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 127
127 شرح خلقـش کـجــا تــوانــم کــرد آن عـــــاجــــز از بیـــــانـــم کـــــرد عالمی را بــنـــورحــــق افـــــروخــــت قدم صدق را بــخــلــق آمــوخـــــت (در مکنون ص: 114) ترجمہ 1۔ہر وہ شخص جس نے آپ ﷺ کا دامن پکڑ لیاوہ چاند کی مانند چمکنے لگ گیا۔2۔انہوں نے اپنا خون خدا کی راہ میں بہایا اور اپنی جان آپ ﷺ کے پاؤں کے نیچے لاڈالی۔3۔آپ ﷺ زمانہ میں ایسے عظیم الشان استاد ہیں کہ آپ ﷺ کی شان کے کسی اور استاد کا نشان نہیں ملتا۔4۔میں آپ ﷺ کے اخلاق کی تشریح کیسے کر سکتا ہوں میں تو آپ ﷺ کے حسن کو بیان کرنے سے عاجز ہوں۔5۔آپ ﷺ نے الٹی نور کے ساتھ ایک عالم کو روشن کر دیا اور مخلوق کو ثابت قدمی کا سبق سکھا دیا۔مسلمانوں کی موجودہ حالت :۔جب تک مسلمان آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے رہے اور تَخَلَّقُوا بِاخْلاقِ الله اُسوہ کے مطابق ان اخلاق و فضائل کے مالک رہے جو صفات الہیہ کا مظہر تھے۔وہ ساری دنیا کے اُستادر ہے۔نہ صرف انہوں نے عرب پر حکومت کی بلکہ عرب سے نکل کر سارے ایشیا یورپ اور افریقہ پر چھا گئے۔مغربی اقوام جو آج اخلاق اخلاق کے نعرے لگاتی ہیں انہوں نے مسلمانوں سے ہی درس انسانیت اور درس اخلاق لیا تھا لیکن دوسری قوموں کو درس اخلاق دے کر خود اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ اور قرآن کی تعلیم ، یہ کوئی تضاد نہیں بلکہ جیسا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا تھا کان خلقه القرآن (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) کہ آنحضرت ﷺ کے اخلاق آپ کردار آپ ﷺ کا عمل وہی ہے جس کی تعلیم قرآن مجید میں دی گئی ہے۔جب تک مسلمانوں کا عمل قرآنِ مجید کے مطابق رہا جب تک ان کی زندگیاں قرآن مجید کے محور کے گرد گھومتی رہیں وہ کسی قوم سے شکست نہ کھا سکے۔آج دشمنان اسلام کا سب سے بڑا اعتراض اسلام پر یہی ہے کہ اسلام مسلمانوں کی ترقی میں