خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 122
ار 122 چل کر انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکے یہ فخر صرف اور صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ آپ کا خادم دنیا کا سردار بنادیا جاتا ہے اور آپ کا عاشق اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ صفت رحیمیت کے کامل مظہر : پھر آپ صفت رحیمیت کے بھی کامل مظہر تھے یعنی آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کا کامل ظہور دنیا میں ہوا۔رحم کے معنے سچی محنت کا بدلہ دینے کے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس صفت کو فیضان خاص کے نام سے ادا فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:۔”فیضان خاص میں جہد اور کوشش اور تزکیہ قلب اور دعا اور تضرع اور توجہ الی اللہ اور دوسرا ہر طرح کا مجاہدہ جیسا کہ موقع ہو شرط ہے اور اس فیضان کو وہی پاتا ہے جو ڈھونڈتا ہے اور اسی پر وارد ہوتا ہے جو اس کے لئے محنت کرتا ہے۔“ روحانی خزائن جلد 1 براہین احمدیہ صفحہ 450 حاشیہ نمبر 11 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر کونسا ظلم تھا جو لا اله الا اللہ کہنے کی وجہ سے نہ توڑا گیا۔پتھروں پر گھسیٹا گیا۔نیزے مار کر شہید کیا گیا۔ان کے سینوں پر کو دا گیا۔فاقے رہنا پڑا۔صرف مردوں پر ہی نہیں بلکہ عورتوں پر بھی ظلم ڈھائے گئے۔انہیں بھی سختیوں کا نشانہ بنایا گیا۔صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ایک ہے اور محمد اس کے رسول ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کا کیا شاندار ظہور آپ کے ذریعہ سے ہوا کہ 23 سال نہ گزرے کہ مسلمانوں کو عرب کا بادشاہ بنادیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر جب حضرت ابو بکر خلیفہ منتخب ہوئے اور یہ خبر جب آپ کے والد کو پہنچی تو انہوں نے کسی سے کہا کون ابوبکر خلیفہ منتخب ہوئے ہیں لوگوں نے کہا ابو قحافہ کا بیٹا کہنے لگے آج میں ایمان لے آیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی تھے ورنہ ابو قحافہ کے بیٹے کی کیا حیثیت کہ وہ مسلمانوں کا سردار اور بادشاہ بن جاتے۔یہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کا ظہور تھا کہ ان کے دکھوں اور تکلیفوں اور محنت کا بدلہ ان کو اس دنیا میں مل جائے تو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ خدائے عز و جل رحیم بھی ہے اور کتنی جلدی مسلمانوں کی قربانیوں کا بدلہ عطا فرمایا کہ ایک قلیل عرصہ میں انہیں عرب کا بادشاہ بنا دیا اور وہ بڑی بڑی حکومتیں جو حقارت سے عربوں کا نام لیا کرتی تھیں ان سے تھر تھر کانپتی تھیں کیوں کہ ان کو معلوم تھا کہ ان سے ٹکر لینا منہ کا نوالہ نہیں جو ٹکر لے گا وہ منہ کی کھائے گا۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو