خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 121
121 گئی ہو کونسا دکھ تھا جو آپ کو نہ دیا گیا کونساوار تھا جو آپ پر نہ آزمایا گیا مگر ہزاروں درود اس محسن انسانیت پر اس صفت رحمانیت کے کامل مظہر پر کہ آپ ہر آن اور ہر لمحہ ان کی اصلاح کی فکر میں لگے رہتے اور اپنا کام کرتے چلے گئے۔آپ نے اپنے مقصد کو جاری رکھنے کے لئے اپنا آرام قربان کر دیا۔اپنی جان کی پرواہ نہ کی ہر قسم کے مصائب کو برداشت کیا دشمنوں کے واروں کو اپنی جان پر سہارا اور اپنی زندگی کو اس مقصد کے لئے لگا دیا کہ خدا سے برگشتہ روحیں اپنے محبوب حقیقی کا چہرہ دیکھ لیں ان میں اخلاق فاضلہ پیدا ہو جائیں اور وہ دنیا کے رہنما بن جائیں۔اسی کی طرف قرآن مجید کی یہ آیات اشارہ کرتی ہیں کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:4) کہ اے محمد رسول اللہ ﷺ آپ اپنی جان کو ہلاک کر دیں گے اس غم میں کہ یہ مومن نہیں ہوئے آپ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کرتے تھے کہ خدایا یہ تیرے گمراہ بندے ہیں انہیں ضائع نہ کیجیو انہیں ہلاک نہ کیجیو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر انہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس امی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں اَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلَّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ بِعَدَدِ هَمِّهِ وَغَمِهِ وَحُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَانْزِلُ عَلَيْهِ أَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الابد روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 11 برکات الدعا پھر یہ نہیں کہ آپ کا فیضان صرف اس زمانہ کے لئے تھا بلکہ آپ کا فیضان ابدی ہے۔آپ کی قوت قدسیہ آج بھی زندہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ۔سورة آل عمران : 32 اگر آج بھی تم اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنا چاہتے ہو۔خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ اپنے میں پیدا کرنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریق ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرو۔آپ کے اخلاق کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالو۔آپ کی سیرت مقدسہ کے مطابق اپنا کردار بناؤ۔خدا تعالیٰ سے تمہارا تعلق صرف اسی ذریعہ سے قائم ہو سکتا ہے۔آج کسی مذہب کو یہ دعویٰ نہیں کہ اس پر