خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 115
115 یہاں تک کہ بال وغیرہ بھی سب خلق میں شامل ہیں اور خلق باطنی پیدائش کا نام ہے۔ایسا ہی باطنی قومی جو انسان اور غیر انسان میں مابہ الامتیاز ہیں وہ سب خلق میں داخل ہیں۔یہاں تک کہ عقل و فکر تمام قو تیں خلق ہی میں داخل ہیں۔خُلق سے انسان اپنی انسانیت کو درست کرتا ہے اگر انسانوں کے فرائض نہ ہوں تو فرض کرنا پڑے گا کہ آدمی ہے؟ گدھا ہے؟ یا کیا ہے؟ جب خلق میں فرق آجاوے تو صورت ہی رہتی ہے۔مثلا عقل ماری جاوے تو مجنون کہلاتا ہے۔صرف ظاہری صورت سے ہی انسان کہلاتا ہے۔پس اخلاق سے مراد خدا تعالیٰ کی رضا جوئی ( جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی میں مجسم نظر آتا ہے ) کا حصول ہے اس لئے ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرز زندگی کے موافق اپنی زندگی بنانے کی کوشش کرے۔یہ اخلاق بطور بنیاد کے ہیں اگر وہ متزلزل رہے تو اس پر عمارت نہیں بنا سکتے۔اخلاق ایک اینٹ پر دوسری امینٹ کا رکھنا ہے اگر ایک اینٹ ٹیڑھی ہو تو ساری دیوار ٹیڑھی رہتی ہے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے خت اوّل چوں نہد معمار کج تا ثریا رود دیوار کج ملفوظات جلد اوّل صفحہ 83-84 اخلاق فاضلہ کا کامل نمونہ:۔سب سے اکمل نمونہ جمیع اخلاق حسنہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک تھی جن کے ذریعہ سے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ظہور ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق فرمایا بُعِثْتُ لِاَتَمِّمَ مَكَارِمَ الاخلاق ( السنن الكبرى كتاب الشهادة باب بيان مكارم الاخلاق) کہ میری بعثت کی غرض یہ ہے کہ دنیا کو اخلاق کا درس دوں۔اللہ تعالیٰ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی کہ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:5) آپ ہر خلق کے مالک ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی تشریح میں فرماتے ہیں:۔عظیم کے لفظ کے ساتھ جس چیز کی تعریف کی جائے وہ عرب کے محاورہ میں اس چیز کے انتہائے کمال کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ یہ درخت عظیم ہے تو اس سے یہ مطلب ہوگا کہ جہاں