خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 116
116 تک درختوں کے لئے طول و عرض اور تناوری ممکن ہے وہ سب اس درخت میں حاصل ہے ایسا ہی اس آیت کا مفہوم ہے کہ جہاں تک اخلاق فاضلہ و شمائل حسنہ نفس انسانی کو حاصل ہو سکتے ہیں وہ تمام اخلاق کاملہ تامہ نفس محمدی میں موجود ہیں سو یہ تعریف ایسی اعلیٰ درجہ کی ہے جس سے بڑھ کر ممکن نہیں اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو دوسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا یعنی تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے۔یہی تعریف بطور پیشگوئی زبور باب 45 میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں موجود ہے۔جیسا کہ فرمایا کہ خدا نے جو تیرا خدا ہے خوشی کے روغن سے تیرے مصاحبوں سے تجھے زیادہ معطر کیا۔روحانی خزائن جلد اول براہین احمدیہ ہر چہار ص ص : 606۔اللہ تعالیٰ کی صفات اربعہ :۔اللہ تعالیٰ کی بڑی صفات جوام الصفات کہلاتی ہیں چار ہیں رب، رحمن ، رحیم اور مالک یوم الدین باقی تمام صفات ان چار صفات کے تابع ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صفات اربعہ کے کامل مظہر بن کر دنیا میں آئے اور اپنے اخلاق نمونہ اور عمل کے ذریعہ دنیا پر آپ نے ثابت فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ رب بھی ہے رحمن بھی ہے رحیم بھی ہے اور مالک یوم الدین بھی ہے۔سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ کے حسن واحسان کی پہلی خوبی رب العالمین کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ان صفات اربعہ پر غور کرنے سے خدا تعالیٰ کا گویا چہرہ نظر آ جاتا ہے ربوبیت کا فیضان بہت ہی وسیع اور عام ہے اس میں کل مخلوق کی کل حالتوں، تربیت اور اس کی تکمیل کے تکفل کی طرف اشارہ ہے غور تو کرو۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر نظر کرتا ہے تو اس کی اُمید کس قدر وسیع ہو جاتی ہے۔تفسیر سورۃ الفاتحہ بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد اول ص: 111 توحید کامل کی تعلیم :۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی جدو جہد کا نتیجہ تھا کہ آپ نے دنیا سے شرک کو دور فرمایا دنیا نے سینکڑوں ربّ بنائے ہوئے تھے آپ کی تعلیم اور کوششوں کے نتیجہ میں آپ نے سارے عرب کو تو حید کی تعلیم دی اور ان کو بتایا کہ تمہارا خالق و مالک ایک خدا ہے جو ساری دنیا کا رب ہے تم مانو یا نہ مانو لیکن وہ ازل سے تمہاری ربوبیت کرتا چلا آیا ہے اور کرتا چلا جائے گا۔غرض صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی صفت