خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 113 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 113

113 انگریزی تعلیم کو بُرا نہیں کہا بلکہ اس کے جو بدنتائج نکل رہے ہیں ان کو نا پسند فرمایا ہے۔اور جس نیت سے تعلیم حاصل کی جاری ہے اُسے نا پسند فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا ہے:۔پھر تعلیم جو تم پاتی ہو اس سے تمہارا مقصد نوکری کرنا ہوتا ہے۔اگر نوکری کروگی تو بچوں کو کون سنبھالے گا؟ خود تعلیم انگریزی بُری نہیں لیکن نیست بد ہوتی ہے اور اگر نیت بد ہے تو نتیجہ بھی بد ہوگا۔اگر غلط راستے پر چلو گی تو غلط نتائج ہی پیدا ہوں گے۔جب لڑکیاں زیادہ پڑھ جاتی ہیں تو پھر ان کے لئے رشتے ملنے مشکل ہو جاتے ہیں۔ہاں اگر لڑکیاں نوکری نہ کریں اور پڑھائی کو صرف پڑھائی کے لئے حاصل کریں۔اگر ایک لڑکی میٹرک پاس ہے اور پرائمری پاس لڑکے سے شادی کر لیتی ہے تو ہم قائل ہو جائیں گے کہ اس نے دیانتداری سے تعلیم حاصل کی ہے۔“ الفضل 24 رمئی 1944ء ان مندرجہ بالا اقتباسات کی روشنی میں جو میں نے حضرت مصلح موعود کی مختلف تقاریر سے جمع کئے ہیں آپ کا عورتوں کی تعلیم کے متعلق نقطہ نگاہ واضح ہو جاتا ہے۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ طرز تعلیم لڑکیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان کو مذہب اور قوم سے عشق رکھنے والیاں بنانے کی بجائے مذہب سے بیگانه، آزاد خود سر، گھر سے بے خبر ، نوکری کرنے کی شائق، بے پردہ بنا رہی ہے حالانکہ ہمارے معاشرہ کو۔ضرورت ہے ایک اچھی شریف دیندارلڑکی کی۔ایک اچھی بہو کی اور اچھی ماں کی۔پس میں اپنی نہایت عزیز بچیوں کو نصیحت کرتی ہوں کہ وہ مذہب سے بیگانگی اختیار نہ کریں۔قرآن سیکھیں کہ یہی تمام علوم کا سر چشمہ ہے۔جہاں وہ کئی گھنٹے اپنی کالج کی تعلیم پر خرچ کرتی ہیں وہاں کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ قرآن مجید کا ترجمہ یاد کرنے مطلب سمجھنے اور مذہبی لٹریچر کے مطالعہ کے لئے لگائیں۔ساتھ ہی میں ان محترمات کی خدمت میں بھی التماس کرتی ہوں جن کے ہاتھ میں قوم کی بچیوں کی تربیت کی باگ ڈور دی گئی ہے کہ اگر ہماری قوم کی بچیاں خدا تعالیٰ اور مذہب سے دُور جاپڑیں تو وہ خدا تعالیٰ کے آگے جوابدہ ہوں گی۔ان کا کام ہے کہ وہ نگرانی رکھیں کہ ہماری بچیاں علوم مروجہ کے ساتھ ساتھ دین بھی سیکھ رہی ہیں یا نہیں۔اور ان کی تربیت صحیح رنگ میں ہو رہی ہے یا نہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہماری بچیوں کو اپنا عبد بنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمارا نمونہ بھی صحابیات کے نمونہ کے مطابق ہو۔(آمین اللھم آمین) الفضل 19 نومبر 1966ء