خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 108 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 108

108 لئے بہت ہی ضروری تھا۔آپ کی ذاتی دلچسپی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ ہجرت کے بعد بھی جبکہ سارا ملک ایک بحران میں سے گزر رہا تھا جماعت پر بھی بہت بڑا مالی بوجھ تھا لیکن ربوہ کے آباد ہوتے ہی یہاں لڑکیوں کا سکول جاری کر دیا گیا۔اور کچھ عرصہ گزرنے کے بعد 1951ء میں لڑکیوں کا کالج بھی جاری کر دیا گیا جو آج خدا تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کے تمام زنانہ کالجوں کے مقابلہ میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔جہاں حضرت مصلح موعود نے عورتوں کے لئے سکول اور کالج جاری فرمائے تا ان کی ذہنی نشو ونما ہوان کی صلاحیتیں اُجاگر ہوں۔وہ قومی نظام کا ایک کارآمد پرزہ بن سکیں اردو لکھنا پڑھنا اس لئے سیکھیں تا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کر سکیں وہ انگریزی بولنا اور پڑھنا اس لئے سیکھیں تا اسلام کو ان خواتین کے سامنے پیش کر سکیں جو انگریزی بولتی اور بجھتی ہیں۔وہاں کبھی بھی آپ کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لڑکیوں کی تعلیم محض ڈگریاں لینے کے لئے ہو یا نوکریاں کرنے کے لئے بلکہ بار بار آپ نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس کو واضح فرمایا کہ علم سے مراد دینی علم ہے۔قرآن مجید کا علم ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔اس کے بعد میں تمہیں توجہ دلاتا ہوں کہ سب سے ضروری تعلیم دینی تعلیم ہے کس طرح سمجھاؤں کہ تمہیں اس طرف توجہ پیدا ہو۔اس زمانے میں خدا تعالیٰ کا مامور آیا اور اس نے چالیس سال تک متواتر خدا کی باتیں سُنا کر ایسی خشیت الہی پیدا کی کہ مردوں میں کئی نے غوث، قطب، ولی، صدیق اور صلحاء کا درجہ حاصل کیا۔ان میں سے کئی ہیں جو اپنے رتبہ کے لحاظ سے کوئی تو ابو بکر اور کوئی عثمان، کوئی علی کوئی زبیر کوئی طلحہ ہے تم میں سے بھی اکثر کو اس نے مخاطب کیا اور انہیں خدا کی باتیں سنائیں اور ان کی بھی اس طرح تربیت کی مگر تب بھی وہ اس رتبہ کو حاصل نہ کر سکیں۔اس کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایک صدیقی وجود کو کھڑا کیا مگر اس سے بھی وہ رنگ پیدا نہ ہوا۔پھر خدا نے مجھے اس مقام پر کھڑا کیا اور پندرہ سال سے متواتر درس اور اکثر وعظ و نصائح اور لیکچر میں دین کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں اور ہمیشہ یہی میری کوشش رہی ہے کہ عورتیں ترقی پائیں مگر پھر بھی ان میں وہ روح پیدا نہ ہوسکی جس کی مجھے خواہش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پچھلے دنوں میں نے یہاں کی عورتوں سے ایک سوال کیا تھا کہ تم کسی ایک عورت کا بھی نام بتاؤ جس نے قرآن کریم پر غور کر کے اس کے کسی نکتہ کو معلوم کیا ہو۔۔۔۔۔اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ تم قرآن کو قرآن کر کے نہیں پڑھتیں اور نہیں خیال کرتیں کہ اس کے اندر علم ہے۔فوائد ہیں حکمت ہے بلکہ صرف خدائی کتاب سمجھ کر پڑھتی ہو کہ اس کا پڑھنا فرض ہے۔اس لئے اس کی معرفت کا دروازہ تم پر بند ہے۔دیکھو قرآن خدا کی کتاب ہے۔اور اپنے اندرعلوم رکھتا ہے۔