خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 107 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 107

107 کہ جو اپنے زمانہ کے امام کو نہیں پہچانتا وہ کفر کی موت مرتا ہے۔پس ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ خود علم سیکھے اور علم پھیلانے کی کوشش کرے اور جس طرح مسلمان کے لفظ سے مرد مخاطب ہیں اسی طرح عورتیں بھی ہیں۔“ الفضل 21 مارچ 1925ء جلد 12 نمبر 154) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابن ماجہ کتاب المقدمه ) ہر مسلمان مرد اور عورت کے لئے علم حاصل کرنا فرض ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت احمدیہ کی خواتین کی تعلیم کے لئے از حد کوشش کی۔جب اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت خلیفتہ اسیح الثانی مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو قادیان میں بچیوں کے لئے صرف ایک پرائمری سکول جاری تھا۔جس میں تھیں چالیس تک طالبات کی تعداد تھی۔آپ نے خلیفہ ہوتے ہی عورتوں کی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔پرائمری سکول سے مڈل سکول ہوا۔مڈل سکول ہائی سکول بنا۔ہجرت کے وقت قادیان میں دو زنانہ سکول تھے۔ایک ہائی اور ایک مڈل۔ہائی سکول کے ساتھ بچیوں کی اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے بھی ایک دینیات کالج جاری فرمایا اور عورتوں کی تعلیم کے لئے 17 / مارچ 1925 ء کو آپ نے ایک مدرستہ الخواتین جاری فرمایا جس میں آپ خود بھی پڑھایا کرتے تھے۔یہ مدرسہ اس غرض سے جاری کیا گیا تھا تا جماعت کی مستورات دینی و دنیوی علوم کے زیور سے آراستہ ہو کر جماعت کی بچیوں کی تعلیم وتربیت میں حصہ لے سکیں۔چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں:۔عورتوں کی تعلیم سے مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی خاص دلچسپی ہے۔میں نے اس کی وجہ سے لوگوں کے اعتراضات بھی سنے ہیں اور اختلافی آراء بھی سنی ہیں لیکن پھر بھی پورے یقین کے ساتھ اس رائے پر قائم ہوں کہ عورتوں کی تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔جب جماعت احمدیہ کا انتظام میرے ہاتھ میں آیا اس وقت قادیان میں عورتوں کا صرف پرائمری سکول تھا لیکن میں نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو قرآن کریم اور عربی کی تعلیم دی اور انہیں تحریک کی کہ مقامی عورتوں کو قرآن کریم کا ترجمہ اور حدیث وغیرہ پڑھائیں۔میں نے اپنی ایک بیوی کو خصوصیت کے ساتھ اس لئے تیار کیا اور میرا خیال تھا کہ وہ اپنی تعلیمی ترقی کے ساتھ دوسری عورتوں کو فائدہ پہنچائیں گی لیکن خدا کی مشیت تھی کہ میرے سفر ولایت سے واپسی پر وہ فوت ہو گئیں۔مصباح 15 اکتوبر 1931ء) اس قتباس سے ظاہر ہے کہ حضرت مصلح موعود کے نزدیک عورتوں کا تعلیم حاصل کرنا قومی ترقی کے