خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 106 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 106

106 تعلیم نسواں کے متعلق حضرت مصلح موعود کا نظریہ علم انسان کی روح کی غذا ہے۔علم سے ہی انسان کی انسانیت کے جو ہر کھلتے ہو اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کر کے اس کی روحانی تشنگی بجھانے کے لئے اسے علم عطا فرمایا۔جب کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَعَلَّمَ ادَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (البقرة:32) اس سے ظاہر ہے کہ تمام علوم کی ابتداء الہام کے ذریعہ ہوتی ہے۔اس آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔پہلی چیز جس کی بنیاد انسان کی پیدائش کے بعد رکھی گئی وہ علم ہے۔اور جس طرح خدا تعالیٰ نے ساری چیزیں ابتداء میں خود بنائی ہیں اور پھر ان کی ترقی انسان کے سپرد کی ہے اس طرح علم کی بنیاد خدا تعالیٰ نے خود کھی اور اس کی ترقی انسان کے سپرد کر دی۔جیسے پہلا آدم خدا تعالیٰ نے خود بنایا آگے ترقی انسانوں کے سپرد کردی۔پہلے آگ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی پھر اس کا قائم رکھنا انسان کے سپرد کر دیا۔اس طرح تمام اشیاء کی ابتداء خدا تعالیٰ نے خود قائم کی اور انہیں آگے ترقی انسان نے دی۔یہی حال علم کا ہے۔پہلے علم خدا تعالیٰ نے دیا آگے اس میں ترقی انسان کرتے گئے۔اسے بڑھاتے گئے اور ہم برابر ابتداء سے اب تک دیکھتے چلے آتے ہیں کہ انسان علم میں ترقی کرتا جارہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ اس قسم کے بھی موجود ہوتے ہیں جو علوم کی قدر نہیں کرتے اور ایسے وجود بھی ابتداء سے ہی چلے آئے ہیں۔ایسے وجودوں کا نام ابلیس رکھا گیا ہے یعنی نا اُمیدی میں مبتلا رہنے والا۔درحقیقت اُمید ہی تمام علوم کو بڑھانے اور ترقی دینے والی ہوتی ہے اور جتنی زیادہ اُمید ہوتی ہے اتنی ہی زیادہ علوم میں ترقی کی جاسکتی ہے۔“ پس جب ابتداء سے انسان کی عظمت اور ترقی آدم سے مشابہ ہونے یعنی علم حاصل کرنے پر ہے اور علم سے مایوس ہونا ابلیس بننا ہے تو سمجھ لو انسان کے لئے کس قدر ضروری ہے کہ علم حاصل کرے۔دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کے معنے علم اور کفر کے معنے جہالت ہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی جگہ جہالت کا لفظ کفر کے معنوں میں استعمال فرمایا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔مَنْ لَّمْ يَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ فَقَدْ مَاتَ مِيْتَةَ الْجَاهِلِيَّةِ (كنز العمال جلد 3 ص: 200)