خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 97 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 97

طبیعت میں نرمی :۔طبیعت میں نرمی بہت تھی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سر میں درد تھا۔اردگرد سے بچوں اور عورتوں کے شور کی آوازیں آرہی تھیں۔مولوی عبد الکریم صاحب نے عرض کی کہ جناب کو اس شور سے تکلیف تو نہیں ہوتی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ”ہاں اگر چُپ ہو جائیں تو آرام ملتا ہے۔“ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کیا کہ کہ پھر حضور کیوں حکم نہیں دیتے کہ شور نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔” آپ ان کو نرمی سے کہہ دیں میں تو نہیں کہہ سکتا۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 308 نوکروں سے حسن سلوک فرماتے تھے ان کے قصوروں پر درگزر کرتے ان کے قصوروں سے ستاری فرماتے تھے۔ایک خادمہ نے گھر سے چاول چرائے اور پکڑی گئی۔گھر کے سب لوگوں نے اسے ملامت کی۔اتفاقاً اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اُدھر تشریف لے آئے۔واقعہ سن کر فرمایا:۔محتاج ہے کچھ تھوڑے سے اُسے دے دو اور فضیحت نہ کرو۔خدا تعالیٰ کی ستاری کا شیوہ اختیار کرو۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 308 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے خادم حامد علی کو اپنی ڈاک ڈاک خانہ میں ڈالنے کے لئے دی۔حامد علی صاحب بھول گئے ایک ہفتہ کے بعد کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر سے وہ ڈاک ملی آپ نے حامد علی صاحب کو بلا کر نرمی سے صرف اتنا فرمایا:۔”حامد علی تمہیں نسیان بہت ہو گیا ہے فکر سے کام کیا کرو۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 302 سائل کو رڈ نہ فرماتے تھے۔ایک روز آپ نماز سے فارغ ہو کر اندر گھر میں تشریف لے جارہے تھے۔ایک سائل کی آواز سنی جو پوری طرح سمجھ نہ آئی۔اندر جا کر واپس تشریف لائے۔احباب سے سائل کو تلاش کرنے کو کہا اس وقت وہ نہ ملا مگر شام کو پھر آیا تو آپ نے اسے کچھ دیا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کسی موقع پر فرمایا:۔اُس دن جو وہ سائل نہ ملا میرے دل پر ایسا بوجھ تھا کہ جس نے مجھے سخت بے قرار کر رکھا تھا اور میں ڈرتا تھا کہ مجھ سے معصیت سرزد ہوئی ہے کہ میں نے سائل کی طرف دھیان نہ کیا اور یوں جلدی اندر چلا گیا۔اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ وہ شام کو واپس آ گیا ورنہ خدا جانے میں کس اضطراب میں پڑا رہتا اور میں نے دعا بھی کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے واپس لائے۔ملفوظات جلد اول صفحہ 303 کے۔“