خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 98
98 دوستوں سے محبت :۔ہیں:۔اپنی جماعت کے دوستوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت محبت فرماتے تھے۔آپ فرماتے اصل بات یہ ہے کہ ہمارے دوستوں کا تعلق ہمارے ساتھ اعضاء کی طرح سے ہے اور یہ بات ہمارے روز مرہ کے تجربہ میں آتی ہے کہ ایک چھوٹے سے چھوٹے عضو مثلا انگلی ہی میں درد ہو تو سارا بدن بے چین اور بے قرار ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ٹھیک اسی طرح ہر وقت اور ہر آن میں ہمیشہ اسی خیال اور فکر میں رہتا ہوں کہ میرے دوست ہر قسم کے آرام و آسائش سے رہیں۔یہ ہمدردی اور یہ غمخواری کسی تکلف اور بناوٹ کی رُو سے نہیں بلکہ جس طرح والدہ اپنے بچوں میں سے ہر واحد کے آرام و آسائش کے فکر میں مستغرق رہتی ہے خواہ وہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں اسی طرح میں للهی دلسوزی اور غمخواری اپنے دل میں اپنے دوستوں کے لئے پاتا ہوں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 66 اسی ہمدردی اور غم خواری کے جذبہ کے تحت آپ اپنے دوستوں کی خدمت میں بھی لگے رہتے تھے اور ان کے لئے دعا ئیں بھی بکثرت فرماتے تھے۔ایک دفعہ مولوی عبدالکریم صاحب نئے مکان میں ایک چار پائی پڑی تھی جس پر سورہے تھے وہاں حضور علیہ السلام ٹہل رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد جاگے تو دیکھا کہ حضور علیہ السلام فرش پر چار پائی کے نیچے لیے ہوئے ہیں۔مولوی صاحب ادب سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محبت سے پوچھا کہ کیوں اُٹھ بیٹھے؟ انہوں نے پاس ادب کا غذر کیا اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:۔میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 310 آوے۔“ ایک دفعہ آپ نے فرمایا:۔”میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص یک دفعہ مجھ سے عہد دوستی باند ھے مجھے اس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں اس سے قطع نہیں کر سکتا ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لاچار ہیں۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 311 احباب کی خدمت کے لئے گھر میں ادو یہ بھی رکھا کرتے تھے تا جس کو ضرورت ہو اس کے کام