خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 96
96 قریب 25 سال تک خلوت میں بیٹھا رہا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کیلئے بھی نہیں چاہا کہ دربار شہرت میں کرسی پر بیٹھوں۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 310-311 آپ نے گوشہ نشینی خدا تعالیٰ کے حکم اور بار بار ارشاد فرمانے پر چھوڑی۔آپ فرماتے ہیں:۔”خدا تعالیٰ نے مجھ پر جبر کر کے اس سے مجھے باہر نکالا۔میری ہرگز مرضی نہ تھی۔مگر اس نے میری خلاف مرضی کیا کیونکہ وہ ایک کام لینا چاہتا تھا اسی کام کے لئے اس نے مجھے پسند کیا اور اپنے فضل سے مجھ کو اس عہدہ جلیلہ پر مامور فرمایا۔یہ اسی کا اپنا انتخاب اور کام ہے میرا اس میں کچھ دخل نہیں۔میں تو دیکھتا ہوں کہ میری طبیعت اس طرح واقع ہوئی ہے کہ شہرت اور جماعت سے کوسوں بھاگتی ہے اور مجھے سمجھ نہیں آتا کہ لوگ کس طرح شہرت کی آرزور رکھتے ہیں۔ملفوظات جلد چہارم صفحہ 3-34) سادہ زندگی:۔آپ کی زندگی بہت سادہ تھی تکلفات سے نفرت تھی۔غذا بہت کم اور سادہ تھی۔لباس بھی بہت سادہ تھا۔ایک ذکر پر آپ نے فرمایا:۔ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرا ہے کہ میں نے گوشت کامنہ نہیں دیکھا ہے اکثر مسی روٹی (بینی) یا اچار اور دال کے ساتھ کھالیتا ہوں آج بھی اچار کے ساتھ روٹی کھائی ہے۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 200 اس کا یہ نہیں مطلب کہ آپ کو دنیاوی نعمتیں میسر نہ تھیں اللہ تعالیٰ کا آپ سے وعدہ تھا کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلّ فَجٍّ عَمِيقٍ۔دور دراز ملکوں تک سے تحائف آپ کے پاس پہنچے اور آپ ان زندہ نشانات پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالائے۔یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی رضا کی خاطر آپ انتہائی طور پر سادہ تھے اور آپ کی توجہ لذات دنیا کی طرف نہیں تھی بلکہ خدا کا جلال اور اس کی شان بلند کرنے کی طرف لگی ہوئی تھی۔اور آپ اپنے وقت کے ایک لمحہ کا ضائع ہونا پسند نہ فرماتے تھے۔فرماتے ہیں:۔”میرا تو یہ حال ہے کہ پاخانہ پیشاب پر بھی مجھے افسوس آتا ہے کہ اتنا وقت ضائع ہو جاتا ہے یہ بھی کسی دینی کام میں لگ جائے۔کوئی مشغولی اور تصرف جو دینی کاموں میں حارج ہو اور وقت کا کوئی حصہ لے۔مجھے سخت ناگوار ہے اور فرمایا۔جب کوئی دینی ضروری کام آپڑے تو میں اپنے اوپر کھانا پینا اور سونا حرام کر لیتا ہوں۔جب تک وہ کام نہ ہو جائے فرمایا ! ہم دین کے لئے ہیں اور دین کی خاطر زندگی بسر کرتے ہیں۔بس دین کی راہ میں ہمیں کوئی روک نہ ہونی چاہئے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 309-310