خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 95
95 شہرت سے نفرت :۔با وجود اس کے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مامور فرمایا ساری دنیا کی اصلاح کا کام آپ کے سپرد کیا۔آپ کو طبعا شہرت سے نفرت تھی۔آپ خلوت میں رہ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کی خدمت کرنا پسند کرتے تھے۔آپ اس وقت تک خلوت سے باہر نہ آئے جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نکلنے پر مجبور نہ فرمایا۔مخالفین نے آپ کی مخالفت میں فحش تقریریں لکھیں تو آپ نے فرمایا۔اگر میری اپنی مرضی پر ہوتا تو میں تخلیہ کو بہت پسند کرتا تھا۔مگر میں کیا کر سکتا تھا جب کہ خدا تعالیٰ نے ہی ایسا پسند کیا۔یہ مقابلہ کریں مگر دیکھ لیں گے کہ خدا کے ساتھ کوئی جنگ نہیں کر سکتا۔“ ملفوظات جلد دوم صفحہ 158 آپ شہرت نا پسند فرماتے تھے ایک صاحب نے عرض کی کہ حضور نے جہلم تاریخ مقدمہ پر جانا ہے اگر اجازت ہو تو اشتہار دے دیا جائے تا کہ ہر ایک اسٹیشن پر لوگ زیارت کے لئے آجائیں۔آپ نے فرمایا۔جو ہمیں ملنے والے ہیں وہ تو اکثر آتے جاتے رہتے ہیں اور جولوگ جماعت میں داخل نہیں ہیں ان کے لئے سردر وخریدنے سے کیا فائدہ؟ میری طبیعت کے یہ امر بر خلاف ہے۔اگر وہ اہل ہوتے تو خود یہاں آتے۔“ ملفوظات جلد دوم صفحہ 619 اسی طرح آپ نے فرمایا۔کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ میں اپنے مدارج کو حد سے بڑھاتا ہوں۔میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ میں اپنے آپ کو کسی تعریف کا خواہش مند پاؤں اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔میں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا ہوں لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے باہر نکالا۔ملفوظات جلد سوم صفحہ 9 حضرت اقدس خلوت کو بہت پسند فرماتے تھے اس بارہ میں فرمایا :۔اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیا ر دے کہ خلوت اور جلوت میں سے تو کس کو پسند کرتا ہے تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ میں خلوت کو اختیار کروں مجھے تو کشاں کشاں میدان عالم میں اسی نے نکالا ہے۔جولذت مجھے خلوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا تعالیٰ کے کون واقف ہے میں