خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 94
94 دو وقت کھانا گھر سے برابر آتا تھا اور مجھے اپنی حالت کا اخفاء منظور تھا۔اس اخفاء کی تدابیر کے لئے جو زحمت اٹھانی پڑتی تھی شاید وہ زحمت اور وں کو بھوک سے نہ ہوتی ہوگی میں وہ دو وقت کی روٹی دو تمین مسکینوں میں تقسیم کر دیتا اس حال میں نماز پانچوں وقت مسجد میں پڑھتا اور کوئی میرے آشناؤں میں سے کسی نشان سے پہچان نہ سکا کہ میں کچھ نہیں کھایا کرتا۔( ملفوظات اوّل صفحہ 303,302 کام میں حد درجہ مصروفیت :۔کام سے آپ بالکل نہ تھکتے تھے۔دن اور رات اسلام کی خدمت میں منہمک رہتے تھے۔آپ فرماتے ہیں یہ وقت بھی ایک قسم کے جہاد کا ہے۔میں رات کے تین تین بجے تک جاگتا ہوں اس لئے ہر ایک کو چاہئے کہ اس میں حصہ لے اور دینی ضرورتوں اور دینی کاموں میں دن رات ایک کر دے۔“ ملفوظات جلد دوم صفحه 510 البدر جلد اوّل نمبر 8 کی ڈائری میں درج ہے۔11 دسمبر 1902ء بروز پنجشنبه بکثرت مضمون نویسی اور کاپی وغیرہ دیکھنے میں جو تکلیف انسان کو ہوتی ہے اس کو مد نظر رکھ کر ایک خادم نے (ظہر کے وقت ) اس تکلیف میں حضور کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا جس پر حضرت اقدس نے فرمایا۔بدن تو تکلیف کے واسطے ہے اور کس لئے ہے۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 572 اسی طرح 15 جنوری 1903 کو فرمایا۔رات تین بجے تک جاگتا رہا تو کا پیاں اور پروف صحیح ہوئے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی طبیعت علیل تھی وہ بھی جاگتے رہے وہ اس وقت تشریف نہیں لاسکیں گے۔یہ بھی ایک جہاد ہی تھا۔رات کو انسان کو جاگنے کا اتفاق تو ہوا کرتا ہے مگر کیا خوش وہ وقت ہے جو خدا کے کام میں گزارے۔“ پھر فرمایا کہ۔”میرے اعضاء تو بے شک تھک جاتے ہیں مگر دل نہیں تھکتا وہ چاہتا ہے کہ کام کئے جاؤ“ آپ کو فارغ رہنا بالکل پسند نہ تھا فرماتے ہیں۔ملفوظات جلد دوم صفحه 691 فراغت میرے واسطے مرض ہے۔ایک دن بھی فارغ رہوں تو بے چین ہو جاتا ہوں اس لئے ایک کتاب شروع کر دی ہے جس کا نام ”حقیقت دعا رکھا ہے۔“ ملفوظات جلد سوم صفحہ 171