خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 88
88 ” میری جائیداد کا تباہ ہونا اور میرے بچوں کا آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے ہونا مجھ پر آسان ہے بہ نسبت دین کی ہتک اور استخفاف کے دیکھنے اور اس پر صبر کرنے کے۔ملفوظات جلد اول صفحہ 302 حقوق العباد کی ادائیگی:۔حقوق العباد کی ادائیگی اسلام کا دوسرا مضبوط استون ہے اور مذہب اسلام کی بنیا دا نہی دوستونوں پر ہے یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں مسلمانوں کی صفات رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کے الفاظ سے فرماتا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر شفقت کرنے والے ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے ایک دوسرے کا خیال رکھنے والے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت اور صفت رحیمیت کے کامل مظہر آنحضرت تھے جن کو قرآن مجید میں رَؤُفٌ رَّحِیم کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی مجسم رحم تھے اپنے دوستوں کے لئے دشمنوں کے لئے ہر ایک کا دکھ آپ کا اپنا دکھ تھا۔آپ فرماتے ہیں۔”ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو اور خدا تعالیٰ کی کل مخلوق سے ملفوظات جلد اول صفحہ 304 احسان کرو۔“ اسی طرح فرماتے ہیں:۔میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو درد ہوتا ہو اور میں نماز میں مصروف ہوں میرے کان میں اس کی آواز پہنچ جائے تو میں تو یہ چاہتا ہوں کہ نماز توڑ کر بھی اگر اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں تو فائدہ پہنچاؤں اور جہاں تک ممکن ہے اس سے ہمدردی کروں یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جائے اگر تم کچھ بھی اس کے لئے نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا ہی کرو۔“ اپنے تو در کنار میں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرولا ابالی مزاج ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 305 ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ایک مرتبہ میں باہر سیر کو جا رہا تھا ایک پٹواری عبدالکریم میرے ساتھ تھاوہ ذرا آگے تھا اور میں پیچھے راستہ میں ایک بڑھیا کوئی 70-75 برس کی ضعیفہ ملی اس نے ایک خط اسے پڑھنے کو کہا مگر اس نے اس کو جھڑکیاں دے کر ہٹا دیا میرے دل پر چوٹ سی لگی اس نے وہ خط مجھے دیا میں اس کو لے کر ٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا اس پر پٹواری کو بہت شرمندہ ہونا پڑا کیونکہ ٹھہر نا تو پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا۔ملفوظات جلد اوّل صفحہ 305