خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 84 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 84

84 ہے حضرت ابراہیم کو جب کفار نے آگ میں ڈالا تو فرشتوں نے آکر حضرت ابراہیم سے پوچھا کہ آپ کو کوئی حاجت ہے۔حضرت ابراہیم نے فرمایا۔بَلَى وَلَكِنْ إِلَيْكُمْ لَا ہاں حاجت تو ہے مگر تمہارے آگے پیش کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔فرشتوں نے کہا اچھا خدا تعالیٰ کے ہی آگے دعا کرو۔تو حضرت ابراہیم نے فرمایا عِلْمُهُ مِنْ حَالِيُّ حَسْبِى مِنْ سَوَالِى وہ میرے حال سے ایسا واقف ہے کہ مجھے سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔“ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 445,444 ہر کام کرتے ہوئے آپ کی نیت یہی ہوتی تھی کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا جلال اور اس کی عظمت ظاہر ہو جب آپ نے اپنے بچوں کی قرآن مجید ختم ہونے پر آمین کی تو اس کی بھی غرض یہی تھی کہ اس ذریعہ سے تبلیغ ہو۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ کے مجھے پرلا انتہا فضل اور انعام ہیں اُن کی تحدیث مجھ پر فرض ہے پس میں جب کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوتی ہے۔ایسا ہی اس آمین کی تقریب پر بھی ہوا ہے۔یہ لڑکے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہیں اور ہر ایک ان میں سے خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں کا زندہ نمونہ ہیں اس لئے میں اللہ تعالیٰ کے ان نشانوں کی قدر کرنی فرض سمجھتا ہوں کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور قرآن کریم کی حقانیت اور خود اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت ہیں اس وقت جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کلام کو پڑھ لیا تو مجھے کہا گیا اس تقریب پر میں چند دعائیہ شعر جن میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکریہ بھی ہولکھ دوں میں جیسا کہ ابھی کہا ہے کہ اصلاح کی فکر میں رہتا ہوں۔میں نے اس تقریب کو بہت ہی مبارک سمجھا اور میں نے مناسب جانا کہ اس طرح پر تبلیغ کردوں۔ملفوظات جلد دوم صفحہ 390 ) 66 یہ دعائیہ اشعار جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا ہے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد اس کے احسانات اس کے جلال اور محبت کے ذکر سے پُر ہیں اور ان کو پڑھ کر انسانی روح وجد میں آکر اللہ تعالیٰ کی حمد کے ترانے گانے لگتی ہیں۔چند شعر درج ذیل کرتی ہوں۔حمد وثنا ہمسر اُسی کو نہیں جو ذات جاودانی ہے اس کا کوئی نہ کوئی ثانی