خطابات مریم (جلد اوّل)

by Other Authors

Page 578 of 801

خطابات مریم (جلد اوّل) — Page 578

578 1972ء میں ہماری لجنہ اماء اللہ کے قیام پر پچاس سال پورے ہو جائیں گے۔ہمارا کام ظاہری طور پر خوشیاں منانا نہیں جیسا کہ دنیا والے جو بلی مناتے ہیں۔ہمارے ہر کام کا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ اس سے اسلام کی اشاعت ہو۔قرآن کریم کی اشاعت ہو۔نبی کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام دنیا کے کونہ کو نہ تک پہنچے۔پس میری تجویز یہ تھی کہ پانچ لاکھ روپے کا ایک فنڈ قائم کیا جائے۔اور اس رقم کو 1972ء کے اختتام تک جمع کر لیا جائے۔اس کے خرچ کے پانچ مقاصد ہوں گے۔پہلا قرآن مجید کا کسی ایک زبان میں ترجمہ دوسر الجنہ اماءاللہ کے دفتر کی از سر نو تعمیر اور توسیع موجودہ دفتر کی بنیا د1950ء میں رکھی گئی تھی۔اس وقت انجینئر ربوہ کی شور زدہ زمین سے واقف نہ تھے اس لئے وہ تدابیر اختیار نہ کی گئیں۔جس سے عمارت یہاں کے کلر سے محفوظ رہتی۔اب انجینئروں کا مشورہ ہے کہ اس کی توسیع کی بجائے گرا کر نئی بنیادوں پر پھر سے بنایا جائے۔موجود عمارت بھی ہمارے کاموں کے لئے نا کافی ہے۔پھر فضل عمر جو نیئر سکول اور نصرت انڈسٹریل سکول کی عمارتیں ہیں۔اور لجنہ اماء اللہ کی تاریخ کی تدوین اور اشاعت ہے جس کا کام شروع کیا جا چکا ہے۔اس وقت تک صرف ایک لاکھ چار ہزار روپے جمع ہوئے ہیں اور قریباً ساڑھے تین لاکھ کے وعدے۔حالانکہ وعدے تو پانچ لاکھ کے ہو جانے چاہیے تھے۔پانچ سو یا اس سے زائد دینے والی بہنوں کے نام لجنہ ہال میں کندہ کروائیں جائیں گے۔اس وقت پانچ سو یا اس سے زائد دینے والی بہنوں کی تعداد قریباً پچاس ہے۔اس کی طرف بہنوں کو بھی لجنات کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔دوسری تحریک سائنس بلاک جامعہ نصرت کی ہے۔جس کی تعمیر کا کام شروع ہے۔یہ رقم مجلس مشاورت 1967ء میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ذمہ لگائی تھی۔اس طرف بہنوں نے کما حقہ توجہ نہیں کی۔اب تک صرف 21000 روپے جمع ہوئے ہیں حالانکہ پچھتر ہزار روپے جمع کرنے عورتوں کے سپرد کئے گئے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ ہماری عہدہ داران کے ذریعہ یہ تحریک ہر بہن تک نہیں پہنچی۔ہماری بہنوں کی اُن عظیم الشان مالی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے جو انہوں نے کیں ہیں۔یہ رقم بہت ہی معمولی تھی۔انگلستان کی سرزمین میں انہوں نے بیوت الذکر بنوائی ہالینڈ میں بنوائی ڈنمارک میں بنوائی ایک قرآن مجید جرمن زبان میں شائع کروایا۔اسی طرح بہت سی مالی قربانیوں میں بسا اوقات مردوں سے بھی بڑھ کر حصہ لیا۔ان کے لئے 75000 روپے جمع کرنا مشکل نہیں اس کے متعلق یہ بھی علان کیا گیا تھا کہ جو بہن اس میں تین سو روپے دے گی اس کا نام بلاک کی عمارت پر کندہ کروایا جائے گا۔اب تک صرف تیرہ چودہ بہنوں نے تین سویا اس سے زائد رقم دی ہے۔