خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 56

خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 18

اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء بعد نماز فجر کا انتظار کر رہا تھا کہ نیند آگئی۔خواب میں دیکھا کہ ایک منادی بلند مگر خوبصورت اور میٹھی آواز میں کہہ رہا تھا اے اللہ کے بندو، اٹھو اور نبی کا استقبال کرو۔اس وقت میں نے پاکستانی کپڑوں سے ملتے جلتے اچھے کپڑے پہنے تھے جو میں نے پہلے بھی نہیں پہنے تھے۔کہتے ہیں اس وقت خواب میں باہر نکلا تو دائیں بائیں حد نظر تک پھیلا ہوا ہجوم دیکھا جہاں لوگ قطاروں میں کھڑے تھے۔ان میں سبز لباس پہنے ہوئے بچے بھی تھے۔آسمان کا رنگ اس قدر نیلا تھا کہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔بہت سے ایسے پرندے بھی دیکھے جو پہلے نہ دیکھے تھے۔ان کی چونچیں لمبی تھیں۔وہ ہمارے اوپر اڑتے تھے۔چونچوں سے پانی کے قطرے ہم پر گرتے تھے جن سے پیاسے اپنی پیاس اور بھوکے اپنی بھوک مٹاتے۔ہم ایسے راستے پر چل رہے تھے جس کے آخر پر خانہ کعبہ تھا جس پر نیا غلاف چڑھایا گیا تھا اور چاند بھی اس پر اپنی خوبصورت روشنی ڈال رہا تھا۔قافلہ کے شروع میں ایک شخص اونٹنی پر سوار تھا جس کے ہاتھ میں سوٹی اور کندھوں پر چادر رکھی تھی۔اونٹنی کے پیچھے گھوڑوں کی ایک قطار تھی جن پر خوبرولوگ تھے جن میں سے صرف ایک شخص کو پہچان سکا جو کہ خلیفہ رابع تھے۔اونٹنی سوار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھے جنہیں سب لوگ پہچان رہے تھے اور حضور کو ہاتھ ہلا کر سلام کر رہے تھے۔بعض کہہ رہے تھے کہ یہ موسیٰ “ ہیں اور ان کا عصا موسیٰ یا ۱۸