خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 35
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء اس کسوف خسوف کو اپنے لیے نشان ٹھہرایا ہو اور یہ ثبوت یقینی اور قطعی چاہیے۔اور یہ صرف اس صورت میں ہو گا کہ ایسے مدعی کی کوئی کتاب پیش کی جائے جس نے مہدی معہود ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور نیز یہ لکھا ہو کہ خسوف کسوف جو رمضان میں دارقطنی کی مقرر کردہ تاریخوں کے موافق ہوا ہے وہ میری سچائی کا نشان ہے۔غرض صرف خسوف کسوف خواہ ہزاروں مرتبہ ہوا ہو اس سے بحث نہیں۔نشان کے طور پر ایک مدعی کے وقت صرف ایک دفعہ ہوا ہے۔اور حدیث نے ایک مدعی مہدویت کے وقت میں اپنے مضمون کا وقوع ظاہر کر کے اپنی صحت اور سچائی کو ثابت کر دیا۔اسی طرح نواب صدیق حسن خان صاحب حج الكرامه میں اور حضرت محمد دالف ثانی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ احادیث صحیحہ میں لکھا ہے کہ ستارہ دنبالہ دار یعنی ذوالسنین مہدی معہود کے ظہور کے وقت میں نمودار ہوگا۔چنانچہ وہ ستارہ 1882ء میں نکلا اور انگریزی اخباروں نے اس کی نسبت یہ بھی بیان کیا کہ یہی وہ ستارہ ہے کہ جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں نکلا تھا۔ایسا ہی اس زمانہ کے قریب جب کہ خدا نے مجھ کو مبعوث فرمایا ستارے اس کثرت سے ٹوٹے جن کی ان سے پہلے نظیر نہیں دیکھی گئی اور شاید یہ نومبر 1885ء تھا۔اسی طرح اور کئی آسمانی نشان ظاہر ہوئے۔یہ خدا کے سب نشان ہیں“۔(چشمہ معرفت روحانی خزائن۔جلد نمبر 23 صفحہ نمبر 330,329 حاشیہ) ۳۵