خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 45
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء تعالی سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اس طرح پر اپنی کم کبھی یاضہ و تعصب کی وجہ سے خدا کے ولی کا انکار کر کے ایمان سلب کرالیتے ہیں۔کیونکہ جب ولی پر ایمان نہ رہے تو ولی جو نبوت کے لئے بطور میخ کے ہے اسے پھر نبوت کا انکار کرنا پڑتا ہے اور نبی کے انکار سے خدا کا انکار ہوتا ہے اور اس طرح پر بالکل ایمان سلب ہو جاتا ہے“۔(ملفوظات جلد نمبر دوم صفحہ نمبر 4 6 3 تا 6 36 جدید ایڈیشن ربوہ۔ملفوظات۔جلد چہارم صفحہ 16 مطبوعہ لندن نومبر 1984ء) فرمایا: ”ہماری آخری نصیحت یہی ہے کہ تم اپنے ایمان کی خبر داری کرو۔نہ ہو کہ تم تکبر اور لا پروائی دکھلا کر خدائے ذوالجلال کی نظر میں سرکش ٹھہر و۔دیکھو خدا نے تم پر ایسے وقت میں نظر کی جو نظر کرنے کا وقت تھا۔سو کوشش کرو کہ تا تمام سعادتوں کے وارث ہو جاؤ۔خدا نے آسمان پر سے دیکھا کہ جس کو عزت دی گئی اس کو پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے اور وہ رسول جو سب سے بہتر تھا اس کو گالیاں دی جاتی ہیں۔اس کو بدکاروں اور جھوٹوں اور افترا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کی کلام کو جو قرآن کریم ہے بُرے کلموں کے ساتھ یادکر کے انسان کا کلام سمجھا جاتا ہے۔سو اس نے اپنے عہد کو یاد کیا۔وہی عہد جو اس آیت میں ہے کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ۔( الحجر : 10 )۔سو آج اُسی عہد کے پورے ہونے کا دن ہے۔اُس ۴۵