خطاب برموقعہ جلسہ سالانہ برطانیہ یکم اگست 2010ء — Page 9
اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یو۔کے ۲۰۱۰ء گیا ہے۔تمام مفسرین نے بالا تفاق اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق ہے۔در حقیقت اظہار دین اسی وقت ہو سکتا ہے جب کل مذاہب میدان میں نکل آویں اور اشاعت مذہب کے ہر قسم کے مفید ذریعے پیدا ہو جا ئیں اور وہ زمانہ خدا کے فضل سے آگیا ہے۔چنانچہ اس وقت پریس کی طاقت سے کتابوں کی اشاعت اور طبع میں جو جو سہولیتیں میسر آئی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ڈاکخانوں کے ذریعہ سے گل دنیا میں تبلیغ ہوسکتی ہے۔اخباروں کے ذریعہ سے تمام دنیا کے حالات پر اطلاع ملتی ہے۔ریلوں کے ذریعہ سفر آسان کر دیئے گئے ہیں۔غرض جس قدر آئے دن نئی ایجادیں ہوتی جاتی ہیں اُسی قدر عظمت کے ساتھ مسیح موعود کے زمانہ کی تصدیق ہوتی جاتی ہے اور اظہار دین کی صورتیں نکلتی آتی ہیں۔اس لیے یہ وقت وہی وقت ہے جس کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کہ کر فرمائی تھی یہ وہی زمانہ ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدہ: 4) کی شان کو بلند کرنے والا اور تکمیل اشاعت ہدایت کی صورت میں دوبارہ اتمام نعمت کا زمانہ ہے۔اور پھر یہ وہی وقت اور جمعہ ہے جس میں وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْا بِهِمْ ( الجمعة : 4) کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے۔اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور بروزی رنگ میں ہوا ہے اور ایک