خلیج کا بحران — Page 43
۴۳ ۲۴ /اگست ۱۹۹۰ء قرار دیا جائے اور غلط تشخیص دوبارہ دنیا کے سامنے پیش کی جائے اور دنیا اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے کیونکہ جو بیمار ہے اس کی بات زیادہ سنی جاتی ہے۔بیمار کہتا ہے کہ میرے سر میں درد ہے اور ساتھ بتاتا ہے کہ میں نے یہ کھایا تھا اور یہ حرکت کی تھی اس کے نتیجے میں سر میں درد ہے۔پھر ڈاکٹر اگر کچھ اور بات کہے بھی تو اس پر کسی کو اطمینان نہیں ملتا۔چنانچہ جب یہ بیمار سرد نیا کو دکھائے جاتے ہیں تو ساتھ کہتے ہیں کہ اس کی بہت اعلی تشخیص خود اس بیمار نے کر دی ہے۔یہ بیار کہتا ہے کہ میرا مذہب پاگل ہے، میرا مذہب مجھے نا انصافیوں پر مجبور کرتا ہے، میرا مذہب مجھے کہتا ہے کہ عورتوں اور بچوں سے ظلم کرو اور اس طرح تم اپنے بدلے اتارو اور اس طریق پر تمہیں انتقام لینے کا اسلام حق دیتا ہے۔سبو تا ر کرو، بموں سے شہروں کا امن اڑاؤ، جس طرح بھی پیش جاتی ہے تم اپنے دکھوں کا بدلہ لو اور تمہارے پیچھے خدا کھڑا ہے اور اسلام کھڑا ہے اور تمہیں تعلیم دیتا ہے کہ مذہب کے نام پر ایسا کرو۔بالکل غلط بات تھی ، اس میں اس کا ادنی سا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔جو باتیں میں نے بیان کی ہیں یہ ایسی باتیں ہیں جو دنیا کے سامنے کہیں بھی آپ پیش کریں دنیا تسلیم کرنے پر مجبور ہو گی کہ بیمارسر کیوں ہیں اور بیماری کی وجہ کیا ہے؟ لیکن ان ظالموں نے خود اپنے اوپر ہی حملہ نہیں کرنے دیا بلکہ اپنے مذہب کو بھی حملے کا نشانہ بنانے کے لئے سامنے پیش کر دیا۔یہ ہے خلاصہ ظلم وستم کا جو اس وقت روا رکھا جا رہا ہے۔آج سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ اسلامی لیڈر شپ ان محرکات کو، ان مواجهات کو سمجھے اور تمام تر توجہ اصل بیماری کی طرف مبذول کرے اور مبذول کروائے اور دنیا کے سامنے یہ تجزیے کھول کر رکھے کہ ہم مجبور اصدام کے مقابل پر تمہارے ساتھ شامل ہوئے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بری الذمہ ہو اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ صدام کا دور کرنا یا عراق کی بربادی عالم اسلام کا علاج ہے۔یہ عالم اسلام کے لئے مزید تباہی کا موجب بنے گا اور وہ محرکات جاری رہیں گے اور وہ بیماریاں باقی رہیں گی جن کے نتیجے میں بار بار مشرق وسطی کا امن برباد ہوتا ہے اور بار بار دنیا کو ان سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔