خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 2 of 376

خلیج کا بحران — Page 2

خلیج کا بحران ۳ راگست ۱۹۹۰ء مشکلات پیدا کرتا چلا جا رہا ہے۔تیل کی دولت نے بہت سے مسلمان ممالک کو فوائد پہنچائے اور ساتھ ہی کچھ نقصانات بھی پہنچائے۔نقصانات میں سے سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ ان میں رفتہ رفتہ تقویٰ کی روح گم ہوگئی اور دنیا کی دولت نے ان کے رجحانات کو یکسر دنیا کی طرف پلٹ دیا۔یہ بات آج کے مختلف مؤرخین بھی اپنی کتب میں لکھتے رہے ہیں اور آج بھی لکھ رہے ہیں کہ جب تک عالم اسلام غریب تھا اس میں تقویٰ کے آثار پائے جاتے تھے لیکن اس تیل کی دولت نے گویا ان کے تقویٰ کو پھونک کر رکھ دیا ہے اور محض دنیا دار حکومتوں کی شکل میں وہ مسلمان حکومتیں ابھری ہیں جن کا اول مقام یہ تھا کہ خدا کا تقویٰ اختیار کرتیں ، اپنے ملک کے رہنے والوں کو تقویٰ کی تلقین کرتیں اور عالم اسلام کے باہمی تعلقات کو تقویٰ کی روح پر قائم کرتیں اور مسائل کو تقویٰ کی روح کے ساتھ حل کرتیں مگر ایسا نہیں۔ایک امکانی صورت حال اور اس کا قرآنی حل جہاں تک قرآن کریم کا تعلق ہے یہ تعلیم نہ صرف عالمگیر ہے بلکہ ہر قسم کے امکانی مسئلے کو قرآن کریم نے چھیڑا بھی ہے اور اس کا ایک مناسب حل بھی پیش فرمایا ہے۔چنانچہ اس امکان کو بھی قرآن کریم نے زیر نظر رکھا کہ مختلف مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہو جائیں اور ان اختلافات کی شکل ایسی بھیانک ہو جائے کہ ان میں سے بعض دوسروں پر حملہ کریں اور مسلمان حکومتیں با ہم ایک دوسرے کے ساتھ قتال اور جدال میں ملوث ہو جائیں۔چنانچہ اس امکان کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے۔وَاِنْ طَابِفَتْنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا کہ ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمان طاقتیں بعض دوسری مسلمان طاقتوں کے ساتھ نبرد آزما ہو جائیں اور ایک دوسرے پر حملہ کریں۔ایسی صورت میں تمام عالم اسلام کا یہ مشترکہ فرض ہے کہ ان کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کی جائے۔فَإِنْ بَغَتْ اِحدُهُمَا على الأخرى اور اگر ایک طاقت دوسری طاقت کے خلاف باغیانہ رویہ اختیار کرنے پر مصر رہے