خلیج کا بحران — Page 3
خلیج کا بحران ۳ راگست ۱۹۹۰ء اور اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو اس کا علاج یہ ہے کہ تمام عالم اسلام مل کر مشتر کہ طاقت کے ساتھ اس ایک طاقت کو زیر کریں اور مغلوب کریں اور جب وہ اس بات پر آمادہ ہو جائے کہ اپنے فیصلوں کو احکامات الہی کی طرف لوٹا دے اور خدا کے فیصلے کو قبول کرنے پر آمادہ ہو جائے تو پھر اس پر مزید زیادتی بند کی جائے اور از سر نو اس طاقت اور دوسری طاقت کے درمیان جس پر حملہ کیا گیا ہے، صلح کروانے کی کوشش کی جائے اور پھر یا درکھو کہ اس صلح میں بھی تقوی کو پیش نظر رکھنا اور انصاف سے کام لینا۔پھر انصاف کی تاکید ہے کہ انصاف سے کام لینا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔پھر فرماتا ہے اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اِخْوَةٌ یاد رکھو کہ مومن بھائی بھائی ہیں۔فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ پس ضروری ہے کہ تم اپنے بھائیوں کے درمیان صلح قائم رکھو اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔قرآنی ہدایت کی صریح خلاف ورزی ان آیات کی روشنی میں ایک بات قطعی طور پر واضح ہوتی ہے کہ عالم اسلام نے اپنے باہمی اختلافات میں قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کی ہدایت کو ملحوظ نہیں رکھا۔اگر مسلمان طاقتیں قرآن کریم کی اس واضح ہدایت کو پیش نظر رکھ کر اپنے معاملات نپٹانے کی کوشش کرتیں تو وہ ایک لمبے عرصے تک جو نہایت ہی خون ریز عرب ایران جنگ ہوئی ہے وہ زیادہ سے زیادہ چند مہینے کے اندر ختم کی جاسکتی تھی۔مشکل یہ در پیش ہے کہ دھڑا بندیوں سے فیصلے ہوتے ہیں اور تقویٰ کی روح کو لوظ نہیں رکھا جاتا۔چنانچہ گیارہ سال تک مسلمان ممالک ایک دوسرے سے بٹ کر آپس میں برسر پیکار رہے اور بعض طاقتیں بعض کی مدد کرتی رہیں لیکن اس اسلامی اصول کو نظر انداز کر دیا گیا کہ سب مل کر فیصلہ کریں اور سب مل کر ظالم فریق کے خلاف اعلان جنگ کریں۔ایسی صورت اگر ہوتی تو صرف عرب اور ایران جنگ کا سوال نہیں تھا بلکہ پاکستان اور انڈونیشیا اور ملائیشیا اور دیگر مسلمان ممالک مثلاً شمالی افریقہ کے ممالک، ان سب کو مشترکہ طور پر اس معاملے میں دخل دینا چاہئے تھا اور مشترکہ