خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 376

خلیج کا بحران — Page 337

۳۳۷ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء غریب کی حالت بہتر ہو جائے۔امر واقعہ یہ ہے کہ میں نے امکانات کہا ہے اس لئے کہ غریب کی حالت بہتر کرنے کے لئے یہ ساری چیزیں کافی نہیں جب تک اوپر کے طبقے کی سوچ صحت مند نہ ہو۔اگر اوپر کے طبقے کی سوچ بیمار ہے اور بے حسی ہے اور بے حیائی ہے اور عظیم الشان ہوٹل بنتے چلے جارہے ہیں اور ریسٹورانٹ کے بعد ریسٹورانٹ پیدا ہورہا ہے اور ایک سوسائٹی ہے جو سر شام سے شروع ہو کر رات گئے تک ان ریسٹورانٹس کے چکر لگاتی ہے اور ہوٹلوں کے چکر لگاتی ہے اور عیش وعشرت میں مبتلا رہتی ہے اور لاہور چمک رہا ہوتا ہے کراچی جگمگا رہا ہوتا ہے اگر یہی رجحان جاری رہا اور کسی کی نظر اس طرف نہ گئی کہ ان روشنیوں کے نیچے ایسے ظالم اندھیرے ہیں کہ ان اندھیروں میں تھوڑی دیر بھی آپ جھانکیں تو ان کے اندر کلبلاتی ہوئی انسانیت کی ایسی دردناک شکلیں نظر آئیں گی کہ اس سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایک چھوٹی سی مثال میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔میری بیٹی عزیزہ فائزہ جب قادیان جلسے پر گئی تو واپسی پر اناری اسٹیشن پر گاڑی پکڑنے لگی دو بچے بھی ساتھ تھے۔کھانے کے لئے چیزیں نکالیں تو وہاں چھوٹے چھوٹے غریب بھوکے بچوں کا ایک ہجوم آگیا اور وہ کہتی تھی کہ صاف نظر آتا تھا کہ بھوکے ہیں۔صرف پیشہ ور بھکاری نہیں ہیں۔چنانچہ اس نے وہ کھانا ان میں تقسیم کیا پھر اس کے بعد قادیان سے جو دوستوں نے تجھے دیئے ہوئے تھے، کھانے پینے کی چیزیں وغیرہ ، وہ نکالیں ، وہ تقسیم کیں اور جو بات میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ نہیں کہ اس نے تقسیم کیں یہ تو ہر انسان جس کے سینے میں انسانی دل دھڑک رہا ہو وہ یہی کرے گا لیکن جو خاص بات قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ان غریبوں میں بھی انسانیت کا اعلیٰ معیار پایا جاتا ہے۔انسانیت ان غریب ملکوں میں چھوٹی سطح پر زیادہ ملتی ہے بہ نسبت اونچی سطح کے۔اس نے بتایا کہ جب سب کچھ تقسیم ہو کے ختم ہو گیا تو میرے پاس ایک کوکا کولا کا ایک ٹن (Tin) تھا ، میں نے کہا وہ بھی ان کو پلاؤں تو ایک بڑی بچی کو دے دیا۔اس نے ایک گھونٹ پیا اور پھر ایک ایک بچے کو ایک ایک گھونٹ پلاتی تھی اور گھونٹ پلانے کے بعد اس طرح اس کے چہرے پر طمانیت آتی تھی جس طرح ماں بھو کے بچے کو دودھ پلا کر تسکین حاصل کرتی ہے