خلیج کا بحران — Page 338
۳۳۸ ۸ مارچ ۱۹۹۱ء اور مسکرا کے ان کی طرف دیکھتی تھی کہ دیکھیں کیسا مزا آیا اور بچوں کی قطار لگ گئی ایک کے بعد ایک کو کا کولا کا ایک گھونٹ پیتا تھا اور سمجھتا تھا اس کو آب حیات مل گیا ہے۔اس کے بعد جب گاڑی چلنے لگی تو پولیس کے روکنے کے باوجود، دھکے کھانے کے بعد باوجود یہ بچے اتنا ممنون احسان تھے کہ گاڑی کے ساتھ دوڑتے چلے جاتے تھے اور سلام کرتے چلے جاتے تھے یہاں تک کہ نظر سے اوجھل ہو گئے۔جب وہ مجھ سے واقعہ بیان کر رہی تھی ، اس وقت میں نے سوچا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنی اس بچی کو زیادہ پیار سے دیکھ رہا ہوں یا وہ بھوکے بچے جنہوں نے احسان کے بعد اس کو پیار سے دیکھا تھا اور میں نے سوچا کہ زندگی میں بعض ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب انسانی قدریں خونی رشتوں پر غالب آجایا کرتی ہیں اور انسانی تاریخ میں سب سے بڑا انسانی تعلقات کے خونی رشتوں پر غالب آنے کا دور حضرت اقدس محمد اللہ کے عہد میں آیا بلا شبہ وہ ایک ایسا دور تھا کہ ہر خونی رشتہ ثانوی حیثیت اختیار کر گیا تھا اور انسانی قدروں کو عظمت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا بلند کر دیا تھا کہ مکارم الاخلاق پر آپ کا قدم تھا۔وہ دور ہے جسے واپس لانے کی ضرورت ہے یہ انسانی قدریں ہیں جو تیسری دنیا کو بچائیں گی۔یہ قدریں تو آپ کے قدموں کے نیچے پامال ہو رہی ہیں اور خدا کی تقدیر بڑی قوموں کیقدموں کے نیچے آپ کو پامال کرتی چلی جارہی ہے۔کیوں خدا کی تقدیر کے اس اشارے کو آپ نہیں سمجھتے۔مجھے افسوس ہے کہ یہ دونوں ملک کشمیر کی جنت اپنانے کی لالچ میں اپنے ملکوں کے غرباء کو جہنم میں جھونکے ہوئے ہیں پس تیسری دنیا میں جتنے دوسرے چاہیں دل اختیار کر لیں جب تک عزت نفس کو زندہ نہیں کیا جاتا ، جب تک وقار کو زندہ نہیں کیا جاتا جب تک احسان کے جذبوں کو زندہ نہیں کیا جاتا ، جب تک تمام انسانی قدروں کی حفاظت کا عہد نہیں کیا جاتا اس عہد کو پورا کرنے کے سامان نہیں کئے جاتے ،اس وقت تک تیسری دنیا کی تقدیر بدل نہیں سکتی اور تیسری دنیا آزاد نہیں ہو سکتی۔پس ترقی یافتہ قومیں جن کو پہلی دنیا کہا جاتا ہے، نہ صرف آزاد ہیں بلکہ آپ کو غلام بنانے کے لئے پہلے سے زیادہ مستعد اور تیار ہو رہی ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اقتصادی قدم