خلیج کا بحران — Page 236
۲۳۶ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء لیکن اصل واقعہ یہ نہیں ہے۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ خطبے میں بیان کیا تھا یہ بالکل ایک جھوٹ اور دجل ہے۔صدام حسین نے کبھی بھی کو یت خالی کرنے سے انکار نہیں کیا۔صدام حسین ہمیشہ یہ موقف لیتے رہے ہیں کہ کویت پر میر احملہ جارحانہ ہے لیکن اسی قسم کے جارحانہ حملے پہلے اسرائیل کی طرف سے مسلمان ممالک پر ہو چکے ہیں اور ان کا قبضہ موجود ہے اسی طرح باوجود اس کے کہ یونائیٹڈ نیشنز اور سیکیورٹی کونسل نے بار بار ریزولیوشنز کے ذریعے اسرائیل کا قبضہ نا جائز قرار دیا ہے تو اگر تم واقعی صلح چاہتے ہو تو اس بات پر گفت و شنید ہونی چاہئے صرف کویت کا مسئلہ نہیں ہے۔دونوں کو اکٹھا دیکھو تا کہ کویت بھی خالی ہو اور دوسرے مقبوضہ علاقے بھی خالی ہوں اور یہ مسئلہ جو بڑی دیر سے ایک ظلم کا موجب بنا ہوا ہے یہ ایک طرف سے حل ہو۔اس کو امریکہ اس شدت سے رد کر تا رہا ہے کہ جتنے بھی پیغامبر عراق کی طرف جاتے رہے یا دوسرے ممالک کی طرف تا کہ وہ عراق پر زور ڈالیں۔ان کو سختی سے یہ ہدایت رہی ہے یہاں تک کہ یونائیٹڈ نیشنز کے سیکرٹری جنرل کو ئیار کو بھی یہی ہدایت تھی کہ تم نے گفت و شنید نہیں کرنی اس مسئلے پر۔ان دونوں مسائل کو یعنی فلسطین کے مسئلے کو اور کویت کے مسئلے کو اکٹھا ایک میز پر زیر بحث ہی نہیں لانا کیونکہ اگر وہ زیر بحث لے آئیں تو اس سے امریکہ کا دجل کھل جاتا ہے اور وہ عرب مسلمان ممالک جو اس وقت امریکہ کے ساتھ ہیں ان کے لئے بڑی سخت نفسیاتی مشکل پیدا ہو جاتی ہے۔امریکہ انکار کر رہا ہے کہ نہیں وہ خالی نہیں کرے گا اور تم خالی کرو یہ ایک ایسی کھلی کھلی دھاندلی اور زیادتی ہے کہ مسلمان حکومتوں کے لئے بڑی مشکل بن جاتی ہے کہ پھر وہ اپنے ساتھ کو قائم رکھیں۔یہ الگ بات ہے کہ جس وجہ سے وہ ساتھ ہے وہ وجہ ابھی رہے گی لیکن اس کے بعد میں بات کروں گا۔آج جو تازہ خبر آئی ہے صدر صدام حسین نے جس طرح پہلے عقل اور حکمت عملی میں بار بار ان کو مات دی ہے ایک اور مات دے دی ہے ، اور وہ اس طرح کہ سیکیو رٹی کونسل کا اجلاس طلب کروانے میں اس نے روس سے مدد مانگی اور دوسرے بعض ملکوں سے۔چنانچہ یہ وہ مان گئے چنانچہ جو مسئلہ وہ میز پر لا نانہیں چاہتے تھے اب وہ سیکیورٹی کونسل کی میز پر آ گیا ہے اور صدام حسین نے کہا