خلیج کا بحران — Page 237
۲۳۷ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء ہے کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم کو بیت خالی کرنے کے لئے تیار ہیں سیکیورٹی کونسل ان سب مسائل کو اکٹھا دیکھے اور پہلے یہ سمجھائے ہمیں کہ ریزولیوشن 242 پر کیوں عمل نہیں ہورہا جو سیکیورٹی کونسل کا ریزولیوشن ہے جس میں کلیۂ سارا الزام سارا اتہام یہود پر ہے اور یہ جرم ثابت کیا گیا ہے کہ انہوں نے جارحانہ جنگ کی تھی اور از راہ ستم وہ علاقے ہتھیائے ہیں ، تو اس مرحلے پر اس وقت جنگ داخل ہوئی ہے۔جنگ کی ذمہ داری کا تعین جہاں تک ذمہ داریوں کی تعیین کا تعلق ہے ہم کسی ایک پارٹی کو ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے۔یہ مضمون چونکہ کافی لمبا ہے مجھے ابھی اور وقت لگے گا اس کو سمجھانے میں لیکن میرا مقصد یہ ہے کہ جنگ تو اللہ بہتر جانتا ہے کب کس حالت میں ختم ہو لیکن جنگ کے ساتھ مسائل ختم نہیں ہوں گے، مسائل بڑھیں گے اور اس جنگ کے نتیجے میں پہلی بات جو ظا ہر ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا (الزلزال :۲) کا مضمون دکھائی دے رہا ہے کہ نہ صرف مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والے مسائل زمین نے اگل دیئے ہیں بلکہ ساری دنیا میں جو ملتے جلتے مسائل ہیں وہ ظاہر ہورہے ہیں اور دنیا کی نظر کے سامنے آرہے ہیں۔نئی دنیا کا نقشہ کیا ہوگا۔اس میں بڑی چھوٹی قوموں کے تعلقات کیا ہوں گے۔یونائیٹڈ نیشنز کو کیا کردار ادا کرنا ہوگا۔وہ یہ کردار ادا کر بھی سکتی ہے کہ نہیں؟ یہ سارے مسائل ، اور بھی اس سے متعلق مسائل دنیا کے سامنے آرہے ہیں ، تیل کی دولت پر کس کو تسلط ہے۔کس طرح اس کا استعمال ہونا چاہئے تو چاہے جنگ ہو یا نہ ہو، ختم ہو یا جاری رہے میر امضمون بہر حال جاری رہے گا کیونکہ اس کا تعلق لمبے عالمی مسائل سے ہے۔جہاں تک جنگ کی ذمہ داری کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں صدام حسین صاحب پر لازماًیہ ذمہ داری ضرور ہے کہ انہوں نے کویت پر حملہ کیا اور اس حملے میں بہت جلدی کی اور اس کے نتیجے میں اپنی ساکھ کو بھی اور عراق کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا اور سب سے بڑا نقصان یہ کہ دشمن کے جال میں