خلیج کا بحران — Page 21
۲۱ ۱۷ اگست ۱۹۹۰ء جائے اور اس کی انا توڑنے پر اُسے مجبور کر دیا جائے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو قرآن کریم یہ تعلیم نہ دیتا۔یہ ایسی واضح اور قطعی تعلیم ہے جس میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ کوئی اسلامی ملک خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اگر وہ سرکشی دکھاتا ہے اور تم باقی مسلمان ملک قرآنی تعلیم کے مطابق معاملات طے کرانے کی کوشش کرتے ہو اور وہ ضد کرتا ہے اور بغاوت اختیار کرتا ہے تو تمہاری اجتماعی طاقت اُسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی۔یہ خوشخبری ہے جو قرآن کریم نے ہمیشہ کے لئے دی ہے اور یہ خوشخبری آج بھی صادق آتی ہے اگر اس سے فائدہ اُٹھایا جائے لیکن صورت حال یہ ہے کہ نہ صرف سعودی عرب نے اپنے سر پرستوں کو فوری طور پر مداخلت کی دعوت دی اور ان کی فوجیں یعنی امریکہ کی اور انگلستان کی فوجیں وہاں پہنچنی شروع ہوئیں بلکہ تمام دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کو انہوں نے ان بڑی طاقتوں کو مجبور کیا یا آمادہ کیا کہ وہ بھی کچھ نہ کچھ حصہ ڈالیں۔چنانچہ مشرق بعید سے بھی، دور دراز سے کچھ نیول یونٹس یا ہوائی جہازوں کے یونٹس یا کچھ فوجی ہر طرف سے وہاں پہنچنے شروع ہوئے تا کہ تمام دنیا ایک طرف ہو جائے اور عراق اور اس کا ایک آدھ ساتھی ، شرق اُردن کو ایک طرف کر دیا جائے اور اب تک یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ سب دفاعی اقدامات ہیں اور خطرات کو پھیلنے سے روکنے کے لئے ان کی حد بندی کی جارہی ہے۔دوسرا اس کا پہلو یہ ہے کہ اکثر مسلمان ممالک ان بڑے ممالک کے دباؤ کے نیچے آ کر مجبور ہو چکے ہیں یا اپنی خود غرضیوں کی وجہ سے اس بات پر بطیب خاطر شرح صدر کے ساتھ آمادہ ہو چکے ہیں کہ وہ بھی اپنی فوجیں وہاں بھیجیں۔یہاں تک کہ پاکستان کی حماقت کی حد ہے کہ پاکستان بھی ان مسلمان ممالک میں شامل ہو گیا ہے جس نے سعودی عرب اپنی فوجیں بھجوانے کا وعدہ کیا ہے یعنی ایسی فوج جو امریکہ اور انگلستان کی فوجوں کے ساتھ مل کر مسلمان ملک عراق کے خلاف لڑے گی۔عالم اسلام کے خلاف انتہائی گہری سازش یہ صورت حال بہت زیادہ سنگین ہوتی چلی جارہی ہے اور یہ خیال کرنا کہ یہ ساری کاروائیاں