خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 214 of 376

خلیج کا بحران — Page 214

۲۱۴ ۸ فروری ۱۹۹۱ء آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ جو یہ رقم ٹیکس کے طور پر ایرانی حکومت کو دیتے تھے وہ تمام ایرانی بجٹ کا نصف تھا اور جور تم وہ برٹش ایرانین آئل کمپنی کے مالک ٹیکس کے طور پر انگریزوں کو دیتے تھے وہ اس سے بہت زیادہ رقم تھی اور جو منافع وہ خود رکھتے تھے وہ اس سے دس گنا زیادہ تھا یعنی کم از کم پانچ گنا ایران کی کل اجتماعی دولت یہ برٹش آئل کمپنی سالا نہ کھا رہی تھی اس لئے یہ وہم بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اس کے خلاف کچھ ہو سکتا ہے۔چنانچہ جب اسمبلی کے سامنے یہ بحث پیش ہونے لگی تو ایرانی وزیر اعظم کو انہوں نے خریدا ہوا تھا یا جس طرح بھی انہوں نے اس کو اپنے ساتھ رکھا ہوا تھا۔اس نے ایک رپورٹ پیش کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہبرٹش ایرانین آئل کمپنی کو قومیانے کا فیصلہ ایرانی مفاد کے سخت خلاف ہوگا اس پر ایک دم پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کا شور اٹھا اور دوسرے دن یا تھوڑی دیر کے بعد ہی اسے نماز پڑھتے ہوئے گولی ماردی گئی اور نئے وزیر اعظم کے طور پر ڈاکٹر مصدق کا انتخاب ہوا۔ڈاکٹر مصدق چونکہ پوری طرح ایرانی مفادات کے وفادار تھے اس لئے اس وقت سے پھر جنگ کی گھنٹی بجادی گئی سب سے پہلے تو انگریزوں نے امریکہ سے رابطہ پیدا کیا اور اس سے بھی پہلے انہوں نے ماریشس میں مقیم اپنے ہوائی جہازوں کے ذریعے جو فوج منتقل کر دی جاتی ہے Air Borne Division اس کو حکم دیا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔لیکن امریکہ نے سمجھایا کہ یہ طریق نہیں ہے اور طریق سے اس کو طے کریں گے۔اس کے بعد امریکہ پر انہوں نے دباؤ ڈالا کہ ایک سازش تیار کی جائے جو برٹش ISI اور امریکہ CIA مل کر کریں جسے مخفی طور پر منظور کر لیا گیا اور انگلستان میں ISI کے نمائندہ Mr۔Sun Clare جو انگریزوں کی طرف سے ISI کے سربراہ تھے اور C۔I۔A کے نمائندہ Kim Rosevelt ان کے درمیان ایک منصوبہ طے ہوا لیکن اس عرصے میں امریکہ نے اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کر کے تمام دنیا میں ایرانین آئل کا بائیکاٹ کر دیا چونکہ بجٹ کی کل آمد کا نصف آئل کمپنی سے ملا کرتا تھا۔جب تیل کی فروخت بند ہوگئی تو بڑا شدید مالی بحران ایران میں پیدا ہوا۔ڈاکٹر مصدق نے 52ء کے وسط میں امریکہ کے صدر سے درخواست کی کہ عارضی طور پر ہمیں مالی مدد دی جائے تا کہ ہم اس بحران پر قابو پالیں بعد میں معاملہ طے ہو جائے گا تو ہم آپ کو پیسے واپس کر دیں گے تو امریکی صدر نے