خلیج کا بحران — Page 215
۲۱۵ ۸ فروری ۱۹۹۱ء اس کا جواب دیا کہ یہ بات امریکن ٹیکس فیئر Tax Fare کے مفادات کے مخالف ہے کہ ایران جب خود پیسے حاصل کر سکتا ہے تو ہم اپنے ٹیکس کے پیسے ان کی طرف منتقل کریں۔آپ کے پاس سیدھی سادی راہ ہے برٹش ایرانین آئل کمپنی کی بات مان جائیں اور ان سے پیسے لے لیں وہ تو پیسے دینے کے لئے تیار ہیں۔اس پر ڈاکٹر مصدق سمجھ گئے کہ ان کی نیتیں ٹھیک نہیں ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتے تھے جب امریکی صدر نے ڈاکٹر مصدق کو یہ جواب دیا ہے تو اس سے چار دن پہلے CIA اور ISI کی سکیم مکمل ہو کر امریکن حکومت کی توثیق حاصل کر چکی تھی اور پریذیڈنٹ نے اس پر دستخط کر دیے تھے کہ ایران کے خلاف یہ کارروائی کی جائے۔وہ کارروائی تو بہت لمبی چوڑی ہے لیکن خلاصہ اس کا یہ ہے کہ ایرانین پولیس اور ایرانین فوج پر انہوں نے قبضہ کیا جو ان کا طریق ہے فوجی انقلاب بر پا کرنے کا اور مختلف اداروں کے سربراہوں کو خرید لینا یا جس طرح بھی ہو اپنے ساتھ ملا لینا چنانچہ اس کام کو Kim Rose Velt نے ادا کیا اور اسی کے بعد Kim Rose Velt کو امریکہ میں اتنا بڑا میڈل عطا کیا گیا ہے جو شاذ ہی کسی ہیرو کو اس طرح عطا کیا جاتا ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کے بادشاہ اور ایران کے وزیر اعظم کے درمیان آپس میں پہلے چپقلش ہوئی اور اختیارات کی کھینچا تانی ہوئی۔ایران کے وزیر اعظم ڈاکٹر مصدق خود افواج کے سربراہ بن گئے۔ایران کے وزیر اعظم نے یہ فیصلہ کیا کہ پولیس کا سربراہ بھی میں ہی مقرر کروں گا اور فوج کا کمانڈر انچیف تو خود بن گئے تھے جو چیف آف سٹاف کہنا چاہئے وہ بھی میں ہی مقرر کروں گا اور اس کی نشاندہی بھی انہوں نے کر دی لیکن پولیس کے ہونے والے سربراہ نے فخریہ طور پر یہ ذکر کیا کہ جتنے بھی برٹش ایجنٹس یہاں ایران میں موجود ہیں ان سب کی فہرست یہاں میرے پاس ہے۔دل پر ہاتھ مار کے اس نے کہا اور دوسرے دن وہ قتل کر دیا گیا۔اور جب ڈاکٹر مصدق کو شاہ آف ایران نے آخر ڈسمس کیا ( جب یہ تیاری مکمل ہو چکی تھی تو اس کے بعد ان کو معزول کیا گیا ) تو جو مظاہرے ان کے حق میں ہوئے اس کے مقابل پر ایک باقاعدہ مقابل پر مظاہرہ کرنے والی فوج تیار کی گئی تھی عوام میں سے خرید کر ان کو مسلح بھی کیا گیا تھا غالباً چھ ہزار ان کی تعداد تھی وہ چونکہ با قاعدہ مسلح تھے اور تربیت یافتہ تھے