خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 376

خلیج کا بحران — Page 160

170 ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء اور خطرہ بھی ہے کہ یہ موجودہ بدامنی ایک عالمی بدامنی میں بھی تبدیل ہو جائے اور وہ خوفناک عالمی جنگ لڑی جائے جس کے تصور سے بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ ممالک جو باہر بیٹھے ایک ملک کو تباہ کر کے اس کے تماشے دیکھ رہے ہیں خودان حالات میں سے گزریں جن کے نتیجے میں وہ تماش بین نہ رہیں بلکہ تماشہ دکھانے والے بن جائیں اس لئے حالات بہت ہی خوفناک ہیں اور خطرناک ہیں اور گہرے ہیں۔سچائی کی فتح کے لئے جامع دعا میں جماعت احمدیہ کو یہ تلقین نہیں کرتا کہ یہ دعا کریں کہ فلاں فریق فتح مند ہو میں جماعت احمدیہ کو یہ تلقین کرتا ہوں کہ امن عالم کے لئے دعا کریں اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ ہم تو حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ کے پیغام کے بھی عاشق ہیں ، آپ کے نام کے بھی عاشق ہیں کیونکہ اے آقا ! وہ تیرا عاشق تھا۔اے زمین و آسمان کے مالک !! کبھی دنیا میں کوئی تیرا ایسا عاشق پیدا نہیں ہوا جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ملتے تھے۔پس ہمیں تو آپ کے نام سے آپ کے کام سے، آپ کی ذات سے ، آپ کے سلسلے سے محبت ہے اور آپ کو تمام بنی نوع انسان سے محبت تھی آپ تمام عالم کے لئے تمام عالمین کے لئے رحمت بنائے گئے تھے۔پس ہماری آپ کی ذات سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم تمام بنی نوع انسان کے غم میں گھلیں اور ان کے لئے بہتری کے سامان کرنے کی کوشش کریں ہمارے پاس دعا کے سوا کچھ نہیں۔ہم ایک کمزور اور نہتی جماعت ہیں ایک مظلوم جماعت ہیں لیکن ہم محمد کے نام پر تیرے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں اور گڑ گڑا کر دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! اس آقا کی قوم پر رحم فرما اور تمام بنی نوع انسان پر رحم فرما اور عالمی مصائب سے ان کو بچالے خواہ وہ انسانی غلطیوں کے نتیجے میں ہیں یا بعض ایسی تقدیروں کے نتیجے میں جن کو ہم نہیں سمجھ سکتے اور جو کچھ بھی ہو اس کے نتیجے میں فتح ہو تو اسلام کی فتح ہو فتح ہو تو انسانیت کو فتح ہو وہ کھوئی ہوئی اخلاقی قدریں جو مشرق سے بھی مٹ چکی ہیں اور مغرب سے بھی مٹ چکی ہیں وہ دوبارہ دنیا میں ابھریں