خلیج کا بحران — Page 152
۱۵۲ ۱۸/جنوری ۱۹۹۱ء تھا اس نے وہ گلاس اٹھایا اور پینے لگا تھا کہ صلاح الدین نے تلوار کی ایک ضرب سے وہ گلاس توڑ دیا کیونکہ صلاح الدین نے زیادہ حکمت عملی کے ساتھ ایک زیادہ طاقتور فوج کو شکست دی تھی اور ان کو صحراء میں آگے پیچھے کر کے ایسے اقدام پر مجبور کر دیا جس کے نتیجے میں وہ پانی سے محروم رہ گئے اور صلاح الدین کی یہ جنگ تلوار کی طاقت سے نہیں بلکہ اعلیٰ حکمت عملی کے نتیجے میں جیتی گئی تھی۔پس وہ پیاس سے تڑپتا ہوا وہاں پہنچا اور اس وقت اس شربت کے گلاس سے اس کو محروم کر دیا گیا۔یہ متقین نے ایک داغ نکالا کہ یہ داغ صلاح الدین کے چہرے پر ہے اس کے سوا ہم کچھ تلاش نہیں کر سکے۔یہ مؤرخ جس کی کتاب میں نے ایک لمبا عرصہ ہوا پڑھی تھی ، مجھے نام بھی یاد نہیں لمبا عرصہ پہلے پڑھی گئی تھی ، وہ یہ لکھتا ہے کہ جو اعتراض کرنے والے ہیں وہ عرب مزاج کو نہیں سمجھتے اور عرب اعلیٰ اخلاقی روایات کو نہیں سمجھتے۔عرب اعلیٰ اخلاقی روایات میں سے ایک یہ ہے کہ مہمان کو جو تمہارا کا پانی پی چکا ہو یا تمہارے گھر کا کھانا چکھ چکا ہو اس کو قتل نہیں کرنا چاہئے اس نے کیسا ہی بھیانک جرم کیا ہو اور اس کا جرم اتنا بھیا نک تھا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی امیے کے مزار کی تو ہین کہ صلاح الدین جیسا عاشق رسول کسی قیمت پر اس کو معاف نہیں کر سکتا تھا۔پس اس کے نزدیک یہ بداخلاقی تھی کہ یہ اس کے میز سے پانی پی لیتا اور پھر وہ اس کو قتل کرتا نہ کہ یہ بداخلاقی کہ مرنے سے پہلے ایک دو سیکنڈ اور اس کو پیاس میں تڑپنے رہنے دیتا۔پس صلاح الدین ایک بہت بڑی عظیم شخصیت تھی جو اسلامی اخلاق کا ایک عظیم الشان مظاہرہ تھا۔ایسا حیرت انگیز مظاہرہ تھا کہ بعض مغربی مورخین نے اس کو عمر بن عبدالعزیز ثانی کہنا شروع کر دیا اور وہ کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز میں جو صلاحیتیں جو روحانیت جو اعلیٰ اخلاق موجود تھے وہ سینکڑوں سال کے بعد صلاح الدین کی صورت میں عرب دنیا میں دوبارہ ظاہر ہوئے۔پس صلاح الدین محض جذبات سے نہیں بنا کرتے۔صلاح الدین نام بہت سی صلاحیتوں کا تقاضا کرتا ہے۔پس احمدی بھی شاید یہ پروگرام دیکھ کر جذباتی طور پر بہیجان پکڑ چکے ہوں ، وہ کہہ رہے ہوں کہ