خلیج کا بحران

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 149 of 376

خلیج کا بحران — Page 149

ج کا بحران ۱۴۹ ۱۸؍ جنوری ۱۹۹۱ء ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کے مطابق تمہارا بھائی اگر ظالم بھی ہو تو اس کی اس طرح مدد کرو کہ اس کے ہاتھ ظلم سے روکو۔چنانچہ اس پہلو سے ہم نے عراق کی بار ہا مدد کرنے کی کوشش کی۔پیغامات بھجوائے گئے ، خطبات میں بھی ہر طرح سے یہ مضامین بیان کئے کہ دو باتیں ایسی ہیں جو آپ کو ظلم میں شریک کر دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اگر آپ مدد چاہتے ہیں تو ظلم سے ہاتھ کھینچنا ہو گا۔پہلی بات یہ کہ کویت سے آپ کو اپنی فوجیں واپس بلا لینی چاہئیں اور عالمی برادری کے سامنے نہیں بلکہ مسلمان برادری کے سامنے کویت کے ساتھ اپنا معاملہ طے کرنے کے لئے پیش کریں اور امن کے ساتھ اور سمجھوتے کے ساتھ آپ کے اختلافات طے ہوں یہی قرآنی تعلیم ہے در اسی تعلیم کے مطابق ہم نے بغداد کو نصیحت کی۔دوسری بات ان کے سامنے یہ پیش کی گئی کہ باہر کے ملکوں کے نمائندے جو آپ کے ملک میں مختلف خدمات پر مامور تھے اور اسی طرح مختلف سفارتکار، وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس امانت ہیں اور اس امانت میں آپ نے خیانت نہیں کرنی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ خواہ یہ نصیحت ان تک پہنچی ہو یا نہ پہنچی ہو، از خود انہوں نے ایک معقول فیصلہ کیا اور مبنی بر انصاف فیصلہ کیا اور اپنے پہلے موقف کو تبدیل کر کے اس منصفانہ موقف پر آگئے کہ ہمیں کسی Human Shield کی ضرورت نہیں ہے، جو غیر ملکی باشندے ہیں وہ جہاں چاہیں جب چاہیں واپس جاسکتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اخباری نمائندگان کو بھی انہوں نے آج تک ایسی غیر معمولی سہولتیں دیئے رکھی ہیں کہ جن کے متعلق مغرب میں بھی یہ تصور نہیں ہو سکتا کہ جب یہ اپنی زندگی اور موت کی جنگ میں اس طرح مصروف ہوں تو اتنی آزادی کے ساتھ غیر ملکی سفارتکاروں کو حالات کا جائزہ لینے اور باہر خبریں بھجوانے کا موقعہ دیں تو ایک پہلو سے تو وہ ظلم سے باز آ گئے لیکن کویت کے مسئلے پر اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا حکمتیں تھیں، کیا مجبوریاں تھیں کہ انہوں نے اپنا قدم واپس لینے سے انکار کر دیا اور اس انکار پر مصر رہے اس کے نتیجے میں جو خوفناک جنگ اس وقت وہاں لڑی جارہی ہے وہ ظاہر ہے کہ بالکل یک طرفہ ہے وہ تمام طاقتیں جو بغداد کے خلاف اکٹھی ہوگئی ہیں ان میں